غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 69 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 69

69 الله ليل حاجیوں کو پانی پلانے پر تھی اور مسلمان ہونے کے باوجود بعض مصالح کے تحت ابھی تک حضور کی اجازت سے مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ بھی اس سفر میں مجفہ کے مقام پر حضور میل سے آن ملے اور آپ کے ہم رکاب ہو گئے۔حضور نے اس موقع پر انہیں فرمایا کہ "آپ کی ہجرت آخری ہجرت ہے جس طرح میری نبوت آخری نبوت ہے۔" (سیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۹۰) مر الظہران میں عشق و وفا کے نظارے:۔الغرض منزل پر منزل طے کرتے ہوئے سفر کے آٹھویں دن دس ہزار قدوسیوں کا یہ لشکر مکہ سے صرف ایک دن کے فاصلے پر مو الظہران میں خیمہ زن ہوتا ہے اور رسول کریم کی کمال حکمت عملی سے اہل مکہ کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۹۰) کدید مقام تک حضور می یم اور آپ کے صحابہ سفر میں بھی رمضان کے روزے رکھتے رہے لیکن اس کے بعد آنحضور میں نے محسوس فرمایا کہ بعض لوگ آپ کی پیروی کے شوق میں مشقت سفر کے باوجود روزے رکھتے چلے جا رہے ہیں۔تو آپ نے مو الظہران میں عصر کے وقت صحابہ کو افطار کا حکم دیا۔بلکہ تمام صحابہ کے سامنے پانی کا پیالہ منگوا کر پیا اور ان کی سہولت کی خاطر اپنے روزے کی قربانی دے کر بھی انہیں دین میں آسانی کا نمونہ دیا۔اور اس کے بعد کے سفر میں روزہ نہیں رکھا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ الفتح) عالم جنگ کے ان ہنگامی حالات میں بھی مر الظہران کے جنگل نے آقا کی غلاموں کے ساتھ بے تکلفی کے ایسے پیارے نظارے دیکھے کہ آج کی مہذب دنیا سالار فوج کی اپنے سپاہیوں کے ساتھ ایسی بے تکلفی کا تصور ہی