غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 48
48 مال کی یہ بے دریغ تقسیم دیکھ کر مجھے اپنے آقا کا وہ فقرہ یاد آتا ہے إِنَّمَا أَنَا قَاسِم وَاللهُ الْمُعْطِئ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا تو خدا ہے۔(بخاری کتاب العلم باب من سرد الله به خیرا) امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی ملی پر بے شمار خزانوں کے دروازے کھولے گئے مگر آپ نے اپنے پاک ہاتھوں سے دنیا کو ذرا آلودہ نہ کیا اور وہ سب اموال خدا کی راہ میں خرچ کر دیئے۔مفتوح قوم پر احسان مزید : فتح خیبر کے بعد یہود کا ایک وفد آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ آپ ہمیں خیبر سے بے دخل نہ کریں بلکہ خیبر کی زمینوں پر کام کرنے دیں۔ہم نصف پیداوار آپ کے حوالے کریں گے۔آپ نے یہودیوں پر احسان فرماتے ہوئے ان کی یہ درخواست بھی قبول کرلی اور خیبر کی زمینیں ان کو نصف پیداوار لینے کی شرط پر بٹائی پر دیدیں۔(بخاری کتاب المغازی و کتاب الشروط) زہر سے قتل کرنیکی سازش : مگر احسان پر احسان دیکھ کر بھی یہودی قوم کی بد عہدیاں ختم نہیں ہوئیں۔انہوں نے رسول اللہ میں ان کو زہر دے کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور ایک سریع الاثر زہر بہت بڑی مقدار میں بکری کی ران کے گوشت میں پکا کر حضور کی خدمت میں سلام بن مشکم کی بیوی زینب کے ذریعہ تحفہ بھیجوایا گیا۔آنحضرت کو یہ کھانا پیش کیا گیا۔آپ نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا ہی تھا کہ زہر کا احساس ہو گیا۔ایک صحابی حضرت بشیر نے لقمہ نگل لیا جو کچھ عرصہ بعد اس زہر کے مہلک اثرات سے جانبر نہ ہو سکے اور اللہ کو پیارے