غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 35 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 35

35 راہ ختم ہو نیکو تھی اور دشمن کی طرف سے پھینکی جانے والی کسی موہوم چیز پر بھی ٹوٹے پڑتے تھے جیسا کہ عبد اللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں کہ محاصرہ خیبر کے دوران کسی شخص نے چربی سے بھرا ایک تھیلا ( قلعہ سے باہر پھینکا میں اسے لینے کیلئے لپکا ناگاہ میری نظر نبی کریم مسیر پر پڑی جو مجھے دیکھ رہے تھے اور مجھے سخت شرم محسوس ہوئی۔(بخاری کتاب المغازی باب فتح خیبر) الغرض بھوک اور فاقے کے ان ایام میں یہ ایک کڑا امتحان تھا لیکن ہمارے آقا تو نہ صرف خود کٹھن امتحانوں میں پورا اترتے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ایسے ابتلاؤں سے نکال کر لایا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نے اپنے صحابہ کی بھوک اور فاقہ کی قربانی دینے اور امانت کی حفاظت کرنے کا فیصلہ فرمایا اور یہ خیال آپ کی امانت میں کوئی فرق پیدا نہ کر سکا۔کہ یہ بکریاں تو غنیم کی مہینوں کی خوراک بن سکتی ہیں مگر آپ نے فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ہانک دو۔خدا تعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیں۔جہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا۔سبحان اللہ ! رسول الله ل ل ا ل و لیلی کسی شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۶) لڑنے والوں کے مال آج بھی میدان جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں۔کیا آج کل کے زمانہ میں جو مہذب زمانہ کہلاتا ہے کبھی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ دوران جنگ دشمن کے جانور مال و اسباب ہاتھ آگئے ہوں اور ان کو دشمن فوج کی طرف سے واپس کر دیا گیا ہو۔نہیں نہیں! بلکہ آج کی دنیا میں عام جالات میں بھی دشمن کے مال کی حفاظت تو در کنار اسے لوٹنا بھی جائز سمجھا جاتا ہے۔مگر قربان جائیے دیانتداروں کے اس سردار پر کہ لڑنے والے دشمن کا مال جو فاقہ کش اور بھوک کے شکار مسلمانوں کی مہینوں کی غذا بن سکتا تھا اور