غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 34
34 مسلمانوں کو یہود کا مقابلہ کرتے ہوئے دن گزرتے چلے گئے۔ان کے زاد راہ ختم ہونے کو آئے۔لیکن جنگ کا کوئی واضح نتیجہ نہ نکلا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے راشن کی کمی کا پتہ چلا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو ہمارے حال کو خوب جانتا ہے۔میرے پاس ان کو دینے کیلئے کچھ بھی تو نہیں۔ایسے حالات پیدا فرما کہ یہ بے چارے بھوکے تو نہ مریں۔(سیرة الحلبيه جلد سوم) لیکن اس دعا کے قبول ہونے میں شاید ابھی کچھ وقت تھا کہ مسلمانوں کو آزمائش کا ایک سخت مرحلہ پیش آیا۔شوق تبلیغ : خیبر کے ایک یہودی رئیس کا گلہ بان ایک حبشی غلام تھا۔وہ جنگل سے بکریاں لے کر شہر کی طرف آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ باہر مسلمانوں کی فوج نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس موقعہ پر ہمارے سید و مولا کا شوق تبلیغ دیکھنے کے لائق ہے۔ابن ہشام نے لکھا ہے کہ تبلیغ کیلئے رسول اللہ لا لا لا لو ہم کسی کو حقیر نہ جانتے تھے۔آپ اس حبشی غلام کو اسلام کی دعوت دینے لگے اس نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ حضور نے فرمایا جنت بشر طیکہ اسلام پر ثابت قدم بھی رہو۔اس پر وہ مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں یہودیوں کے پاس تو جا نہیں سکتا اور یہ بکریاں میرے پاس ایک یہودی کی امانت ہیں میں ان کو کیا کروں؟ امانت کا کڑا امتحان : اس سوال کے جواب سے قبل ذرا ان فاقہ کش محاصرین پر بھی نظر کیجئے جن کی زاد