غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 19 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 19

19 کسی محفوظ ترین غیر معروف چھوٹے راستے سے لشکر کو لے کر خیبر پہنچنا تھا۔اس کیلئے آنحضرت میں نے جد وجہد فرما کر قبیلہ غطفان کی شاخ بنو اشجمع کے ان راستوں کے باہر ایک شخص حسبل کو راستہ کی راہنمائی کیلئے تیار کر لیا مگر کمال دور اندیشی سے محض غیر قوم کے ایک فرد پر انحصار نہیں کیا بلکہ از راہ احتیاط ایک اور رہنما بھی ساتھ رکھا۔(تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۴۵) جب سب انتظامات مکمل ہو گئے تو حضور میں تم نے حضرت سباع بن عرفطہ کو مدینہ میں امیر مقرر فرمایا اور محرم سندھ کی ایک رات کو اجتماعی دعا کے بعد خیبر کا قصد فرمایا۔حضور ملی کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ آپ کی شریک سفر ہو ئیں۔حضرت انس بن مالک بطور خادم خاص حضور کے ہمراہ ہوئے۔(سیرۃ الحلبيه جلد سوم صفحہ ۳۶-۳۷) وہ محسن اعظم مدینہ سے خیبر تک کے راستہ پر جہاں جہاں سے گزرے حسن و احسان کے پھول بکھیرتے چلے گے۔آئیے خیبر کی ان راہوں پر سے ہم اپنے آقا کی سیرت کے وہ پھول چنتے جائیں جو قدم قدم پر بکھرے پڑے ہیں۔واقعات سفر : مدینہ سے باہر نکل کر رسول خدا میں نے فوج کا جائزہ لیا۔اس زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے ، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کیلئے عورتیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہ اسلام نے عورت کا جو تقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپ کو یہ طریق سخت ناپسند تھا۔خیبر کے موقع پر آنحضرت میں یا ہم نے بطور خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی ، تیمارداری اور دیکھ بھال کیلئے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاکیزہ خیال کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگار یوں بیان کرتا ہے کہ :۔