غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 12
12 عمرہ کے ارادہ سے نکلے تھے۔جنگی نقطہ نگاہ سے فوج کی تعداد پر ایسی پابندی بظاہر نامناسب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے مسلمانوں کی سپاہ کی تعداد صرف حدیبیہ میں شامل ڈیڑھ ہزار مسلمانوں میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے جب کہ خیبر میں دس ہزار کی قلعہ بند اور زبر دست مسلح یہودی فوج سے مقابلہ در پیش ہے۔(سيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۳۸) غنیمت تو فتح کا لازمی نتیجہ ہے۔لیکن کیا جارحانہ اقدام کرنے والوں اور مال غنیمت لوٹنے والوں کا یہی طریق ہوا کرتا ہے کہ مختلف پابندیاں اور قیود لگا کر ساتھ نکلنے والے سیاہیوں کو روک دیا جائے؟ یہ حد بندیاں تو ہر گز مسلمانوں کے موافق نظر نہیں آتیں۔لیکن علم و حکمت میں بے نظیر اس مدبر جرنیل کا یہ فیصلہ بھی ہمیشہ کی طرح اصولوں پر مبنی تھا۔وہ تو ایک بااصول سالار تھے۔آپ نے لالچ اور طمع سے بے نیاز مٹھی بھر پاکبازوں کی جماعت کو ساتھ لے لیا لیکن غنیمت کے لالچ میں ہمراہ ہونے والے ایک لشکر کو پیچھے چھوڑ دیا اور اسے ہمرکاب رکھنا تک گوارا نہ کیا۔کیونکہ آپ کا بھروسہ اور توکل سپاہیوں اور تعداد پر نہیں بلکہ اپنے خدا پر ہوا کرتا تھا اور آپ کی لڑائی یا صلح مال غنیمت یا دنیوی جاہ و حشمت کی غرض سے نہیں بلکہ خدا کے نام کی عظمت اور بلندی کیلئے ہوا کرتی تھی۔غزوہ خیبر کے اسباب : خیبر کی طرف رسول اکرم میں کی پیش قدمی کی وجوہات بھی اپنے جلو میں خلق عظیم کے کئی حسین نمونے رکھتی ہیں۔خیبر میں یہود کی خود مختار ریاست قائم تھی اور بنو نضیر کے سرداروں نے مدینہ سے جلاوطنی کے بعد خیبر کے قلعہ بند شہر کو مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا۔