غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 11 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 11

11 ساتھیوں کو بہت زیادہ مال غنیمت کی امید دلائی تھی۔غالبا خیبر کے یہودیوں یا ان کے حلیف بنو خطفان کی طرف سے کسی اشتعال انگیزی کا انتظار تھا۔لیکن جب ایسی کوئی حرکت نہ ہوئی تو محمد نے بلاوجہ ان پر حملہ کر دیا۔" (لائف آف محمد صفحه ۳۸۸) یہود خیبر اور ان کے حلیفوں کی اشتعال انگیزی کی نشاندہی سے سرولیم میور کے دل کا چور تو پکڑا گیا ہے۔اب تاریخی حقائق یہ فیصلہ کریں گے کہ خیبر پر حملہ حدیبیہ کی شکست کا بدلہ لینے اور حصول غنیمت کی خاطر تھا یا شمالی جانب سے یہود خیبر کے اچانک حملہ کے خطرہ سے محفوظ رہنے کیلئے مسلمانوں کا ایک دانشمندانہ اور دفاعی اقدام! جہاں تک حدیبیہ کے واقعہ کا تعلق ہے یہ مفروضہ مغربی مصنفین کا خود تراشیدہ ہے۔قرآن شریف نے حدیبیہ کو فتح مبین" سے یاد کیا ہے اور بعد کے حالات نے بھی اسے عظیم الشان فتح ثابت کیا۔پھر مسلمان اسے شکست کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔رہا خیبر کے مال غنیمت لوٹنے کا اعتراض تو قرآن شریف نے اس کا جواب پہلے ہی دے دیا ہے۔چنانچہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ صرف خیبر ہی غزوہ ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم میں کو ہدایت فرمائی کہ اس غزوہ میں وہ بعض منافق بھی (جو عام طور پر جنگوں سے پیچھے رہتے ہیں) مال غنیمت کے لالچ میں ساتھا جانا چاہیں گے تم ان کو ساتھ نہ لے جانا۔چنانچہ آنحضرت میں نے جب خیبر کی تیاری کا حکم دیا تو یہ اعلان فرمایا کہ۔”ہمارے ساتھ کوئی شخص جہاد کے علاوہ غنیمت وغیرہ کے کسی ارادہ سے نہ نکلے" (سيرة الحلبيه جزم صفحه ۳۶) اور صرف یہ اعلان ہی نہیں کیا بلکہ اس کی تعمیل کیلئے عملی کار روائی یہ فرمائی کہ حدیبیہ میں شامل افراد ہی کو خیبر کی تیاری کا حکم فرمایا جو خلوص نیت سے حج اور