غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 102 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 102

102 نبی کریم میں لی کی خدمت میں حاضر ہونے لگے تو وحشی کو کسی نے مشورہ دیا کہ نبی کریم میں دیا اور یہ سفارتی نمائندوں کا بہت احترام کرتے ہیں اس لئے بجائے چھپ چھپ کر زندگی گزارنے کے تم بھی کسی وفد کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہو کر عضو کی بھیک مانگ لو۔چنانچہ وہ طائف کے سفارتی وفد کے ساتھ آیا اور حضور میں سے آپ کے چا کے قتل کی معافی چاہی۔آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم وحشی ہو ؟ اس نے کہا جی حضور ! اب میں اسلام قبول کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کیا حمزہ کو تم نے قتل کیا تھا۔اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے اس واقعہ کی تفصیل پوچھی۔اس نے بتایا کہ کس طرح تاک کر اور چھپ کر ان کو نیزا مارا اور شہید کیا۔یہ سن کر رسول اللہ علی ایم کی اپنے محبوب چچا کی شہادت کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گئی صحابہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔شاید اس وقت آپ کو حضرت حمزہ کے احسانات بھی یاد آئے ہوں گے جو ابوجہل کی ایذاؤں کے مقابل پر آپ کی سپر بن کر اسلام کی کمزوری کے زمانہ میں مسلمان ہوئے تھے اور آخر دم تک نبی کریم ملی الم کے دست و بازو بنے رہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر جذبات میں کس قدر تلاطم برپا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اہل دل ہی کر سکتے ہیں۔مگر دوسری طرف وحشی قبول اسلام کا اعلان کر کے عفو کا طالب ہو چکا تھا۔تب آپ نے کمال شفقت اور حوصلہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ اے وحشی ! میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ میری نظروں کے سامنے نہ آؤ ( تاکہ اپنے پیارے چا کی المناک شہادت کی دکھ بھری یاد مجھے بار بار ستاتی نہ رہے وحشی رسول اللہ کا یہ حیرت انگیز احسان دیکھ کر آپ " کے حسن خلق کا معترف ہو کر صدق دل سے مسلمان ہوا اور حضرت حمزہ کے قتل کا کفارہ ادا کرنے کی سوچ میں پڑ گیا۔پھر اس نے اپنے دل میں یہ عہد کیا کہ