خدا کی قسم — Page 12
12 اور جس کثرت سے ان کا گند مصنوعی اور افترا پردازیوں کا گند یہ پھیل رہا ہے اور جہاں جہاں تک یہ گند پہنچ رہا ہے ممکن نہیں ہے جماعت کے لئے اپنے محدود وسائل میں ان سب جگہوں تک اپنا جوابی پیغام پہنچا دے۔تو اس کا کیا حل ہے؟ ایک ہی حل ہے اور میں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے ان سارے علماء کو خواہ وہ پاکستان میں بسنے والے ہوں یا باہر ہوں یہ چیلنج کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح خدا تعالیٰ کے پاک نام کی قسمیں کھا کر ہے اعلان کیا ہے کہ میراکلمہ وہی ہے جو سب مسلمانوں کا کلمہ ہے اور میرا رسول حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی ہی ہم ہیں اور میرا ان سب باتوں پر ایمان ہے جو اسلام لانے کے لئے جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔جس شوکت اور جس شان سے آپ نے قسم کھائی ہے اور لعنت ڈالی ہے جھوٹوں پر اس طرح اگر یہ اپنے دعوے میں بچے ہیں تو یہ قسم اٹھاویں اور سارے علماء مل کر یہ حلفیہ بیان پاکستان میں شائع کریں اور باہر دنیا میں اس کے ترجمے کرا کر شائع کرائیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہ یقین رکھتے ہوئے کہ جھوٹوں پر اس کی لعنت پڑتی ہے اور یہ دعا کرتے ہوئے کہ اگر ہم جھوٹے ہوں تو خدا ہم پر لعنت ڈالے اور ہمیں ذلیل ورسوا کرے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ فی الحقیقت اور ہے اور جب یہ کلمہ پڑھتی ہے، جب محمد رسول اللہ لا لا لی یہ کہتی ہے تو مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتے ہیں اور ان کی شریعت اور ہے ان کا خدا اور ہے اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو یہ لوگ نعوذ باللہ من ذالک آنحضرت صلی الا یہ تم سے افضل سمجھتے ہیں ہرشان میں افضل سمجھتے ہیں۔غرضیکہ جتنی افترا پرداز یاں یہ کر رہے ہیں اگر ان میں کچھ بھی غیرت اور ایمان ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہ قسم پہلے سے کھا چکے ہیں یہ بھی آکر قسم اٹھا جا ئیں اور پھر دیکھیں خدا کی تقدیر کیا ظاہر کرتی ہے۔بددعا تو میں روکتا ہوں کرنے سے مگر یہ لوگ ایسے ظالم ہیں ایسی سفا کی ان کے اندر پائی جاتی ہے، جھوٹ اور افترا پر ایسی جرات ہے کہ آپ کو چارہ نہیں رہا کہ سوائے اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس چیلنج کو جو اپنے اندر ایک مخفی چیلنج رکھتا ہے ان کی طرف پھینکوں اور