خُوبصورت یادیں — Page 41
خاتون صالحه 41 ڈھانپ کے سائل کی دعا قبول فرما۔امین والدہ صاحبہ اور والد صاحب کا جذبہ تبلیغ دین خدا کے فضل سے والدہ صاحبہ اور والد صاحب دونوں ہی تبلیغ کے جذبہ سے سرشار تھے۔ہر ایک سے گفتگو کرتے وقت یا کہیں بھی آتے جاتے ایسے موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ اسلام احمدیت کی تعلیم دوسروں تک پہنچ سکے۔حتی کہ زیل کے سفر میں بھی والدہ صاحبہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھیں ان کا مواقع پیدا کرنے کا انداز بھی عجیب تھا۔مثلاً اگر سیٹ پر جگہ کی تنگی ہے تو فورا اٹھ کھڑی ہو تیں اور دوسری بہنوں کو جگہ دے دیتیں اور کوئی نہ کوئی حدیث بیان کر کے تبلیغ کرنے کا جواز پیدا کر لیتیں۔کبھی کسی کے بیمار بچے کو گود میں لے کر شفقت محبت دے کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتیں۔اور آواز بھی چونکہ بلند پائی تھی اس لئے پورا ڈبہ کی مستورات آپ کی طرف متوجہ ہو جاتیں اور یہ سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا اور باوجود ان کو رکنے کا اشارہ کرنے کے وہ اپنا پیغام دے کر چھوڑتیں تاکہ احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچ جائے اور وہ خدا تعالٰی اور امام وقت کی تابعداری میں سرخرو ہو سکیں۔اسی طرح محترم والد صاحب کی زندگی میں بھی یہی جذبہ تبلیغ کار فرما نظر آتا ہے اکثر ہی نئی چھاؤنی میں تبدیل ہونے پر وہ دو چار لوگ چند ہی ماہ میں احمدی بنا لیتے اور چھوٹی سی جماعت قائم کر کے حضرت خلیفہ ثانی سے رابطہ قائم رکھتے ہوئے یہ سلسلہ جاری رکھتے اور جماعت کے افراد جو چند لوگ ہوتے تھے انہیں روزانہ علی الصبح فجر کی نماز کے بعد گھر پر