خُوبصورت یادیں — Page 40
خاتون صالحہ 40 امناء اللہ لاہور لگے چنانچہ سوال جب مجھ سے بھی پوچھا گیا عاجز خدا کے فضل سے تمام تفصیل دماغ کے حصوں کے بارے میں بتاتا چلا گیا اس وقت ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی الہی مدد میرے دماغ اور سوچ پر حاوی ہو کر کام خود بخود کرتی جارہی ہے۔جب میں نے جواب ختم کیا تو اس انگریز ممتحن نے دوسرے اپنے ساتھی انگریز سے کہا کہ ”ویری ویل، ویل ڈن" تو اس طرح خدا کی مدد نے میرے شامل حال ہو کر محترمہ خالہ سعیدہ بیگم صاحبہ کے الہام کے مطابق شاپور کی طرح پا دیا ہے الحمد للہ۔سو یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جو حقیقی خدا کی حقیقتوں پر دل و جان سے ایمان رکھنے والی اور دین خدا پر ایک فدایانہ انداز لئے نظر آتی تھیں انہیں میں سے ہم نے اپنے والد اور والدہ محترمہ زینب بیگم صاحبہ کو بھی باہر نہیں پایا جو انتہائی شیریں زبان میں ادب و احترام کا التزام بغیر کسی تفریق کے ہر ایک سے حسن سلوک کرتی تھیں دلائل سے قائل کر کے قابل تحسین حد تک تاثر چھوڑنے والا وجود تھیں عاجزہ نے بغرض دعا ان کی زندگی کی بعض مختصر عادات و خصائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اے خدا تو ہماری مجسم اخلاص و انکسار، برائی کے جواب میں سدا خاموشی اختیار کرنے والی ہر میدان میں نیکی کی طرف قدم بڑھانے والی والدہ کو اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرما اور ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین۔لیکن اے خدا انسان کمزور ہے گہنگار ہے خدائے ذوالجلال کے فضل و کرم کا ہر دم محتاج ہے ہم بہت ہی مدد و رحمت کے طلب گار ہیں اور یہی سبق والدہ نے ہمیں دیا ہے تو ہم سب کو اپنی رحمت کے سایہ تلے