خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 81
خطابات شوری جلد سوم ΔΙ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء قربانی اُن کی طرف سے ہو رہی ہے؟ اگر وہ اپنے فرض کو ادا نہیں کر رہے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگلے انعامات کا حصول تو الگ رہا انہوں نے ابھی تک اپنے گزشتہ گنا ہوں کا کفارہ بھی ادا نہیں کیا۔اگر وہ اس بات کی تمنا رکھتے ہیں کہ خدا اُن سے راضی ہو، وہ انہیں اپنی جنت کا وارث بنائے اور اپنے اعلیٰ انعامات سے ان کو حصہ دے تو اُن کا اِس قربانی سے پیچھے قدم ہٹانا کوئی معنے ہی نہیں رکھتا۔اُنہیں تو چاہئے کہ وہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں اور کہیں کہ ہماری جان بھی سلسلہ کے لئے حاضر ہے اور ہمارے اموال بھی سلسلہ کے لئے حاضر ہیں۔بغیر اس نمونہ کے وہ اپنے دعوی بیعت میں سچے نہیں سمجھے جا سکتے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اس تحریک میں حصہ لیں اور جو لوگ حصہ لے چکے ہیں وہ دوسروں کو اس میں حصہ لینے پر آمادہ کریں۔ہم جن لوگوں کو اپنے کاموں کے لئے مفید سمجھیں گے لے لیں گے اور جن کی ضرورت نہیں ہو گی اُن کو اجازت دے دیں گے کہ وہ اپنے طور پر جو کام کرنا چاہیں کر لیں ہماری طرف سے اس میں کوئی روک نہیں ہوگی۔سوائے اس کے کہ سلسلہ کو کسی اور وقت اُن کی ضرورت پیش آ جائے اُس وقت بے شک اُن کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے کاموں کو چھوڑ کر مرکز کے مطالبہ پر حاضر ہو جائیں لیکن جب تک سلسلہ اُن کو نہ بلائے وہ مختار ہوں گے کہ جو کام چاہیں کریں۔اس سلسلہ میں وہ طلباء بھی درخواستیں بھجوا سکتے ہیں جنہوں نے انٹرنس پاس کیا ہو۔مولوی فاضل نوجوانوں کی درخواستیں خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں آچکی ہیں۔اسی طرح اور لوگوں نے بھی درخواستیں بھجوائی ہیں۔میرے نزدیک وقف زندگی کے اعلان کے بعد اب تک ستر اشتی درخواستیں آچکی ہیں۔ان میں سے جس قدر آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہو گی ہم اُن کو منتخب کر لیں گے اور جس جس مقصد کے لئے اُن کو لیا گیا ہو گا اُس مقصد کے مطابق اُن کو تعلیم دلائی جائے گی۔اور جیسا کہ میں اپنے ایک گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں ہمیں اس وقت شدید ترین ضرورت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو زمیندارہ کام سے واقفیت رکھتے ہوں۔ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جن کی معمولی تعلیم ہو اور وہ منشیوں وغیرہ کا کام کرسکیں۔اور ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو اعلیٰ درجہ کی زمیندارہ تعلیم حاصل کئے ہوئے ہوں تا کہ اُن کو مینجر وغیرہ بنایا جا سکے۔اگر پندرہ ہیں ہمیں اعلیٰ درجہ کے مخلص نوجوان مل جائیں جو زمیندرہ کام