خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 80

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء ہمیں یہ کامل یقین ہے کہ جب ہمارے پروفیسر اس نقطہ نگاہ سے مغربی علوم پر غور کریں گے تو وہ اُن مشاہدات کو پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو اسلام کا حسن دنیا پر ظاہر کرنے والے ہوں گے اور دیگر نظریوں کو شکست دے کر اُن کو اس میدان سے ہمیشہ کے لئے نکال دیں گے۔اس کے بعد میں صدر انجمن احمدیہ کے ریزروفنڈ کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے اس کی فراہمی میں اُسے حصّہ لینا چاہئے۔اس وقت ریز رو فنڈ میں ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں ہے کہ ہم اپنے تبلیغی کاموں کو وسیع کر سکیں۔اگر چار پانچ سال کے اندر اندر ہمارے پاس کافی رقم جمع ہو جائے تو یہ چھپیس لاکھ ریز روفنڈ کا ابتدائی قدم سمجھا جائے گا۔ناظر صاحب بیت المال نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ جلد سے جلد اس فنڈ میں معتد بہ رقم جمع ہو جائے۔اگر وہ صحیح طور پر کوشش کریں تو میں سمجھتا ہوں اگلے سال تک ہی وہ چار پانچ لاکھ روپیہ ریز روفنڈ میں جمع کر سکتے ہیں اور پھر بقیہ سالوں میں اس کو بڑھا کر ۲۵ لاکھ روپیہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔بہر حال ضروری ہے کہ اس فنڈ کی طرف جماعت کے تمام افراد توجہ کریں کیونکہ بغیر اس قسم کے فنڈ کے کالج کے اخراجات کا انتظام اور تبلیغی کاموں کی وسعت بہت مشکل ہے۔وقف زندگی وقف جائیداد اور وقت آمد کے علاوہ ایک تحریک وقف زندگی بھی ہے۔ہمیں کالج کے لئے ، مرکزی دفاتر کے لئے تبلیغی ضروریات کے لئے اور سلسلہ کے بعض دوسرے کاموں کے لئے بہت سے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ایم۔اے یا بی۔اے کے امتحان میں اچھے نمبروں پر کامیاب ہوئے ہوں۔اس وقت تک آٹھ درخواستیں آچکی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ سلسلہ کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو جلد سے جلد وقف کریں گے تاکہ میرے مدنظر جو پروگرام ہے وہ آسانی سے پورا ہوتا چلا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ وقف زندگی ایک ایسا مطالبہ ہے جس پر لبیک کہنے کی ہر مخلص مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔وہ لوگ جنہوں نے میری زبان سے اس تحریک کو سُنا اور پھر وہ اپنے گھروں میں خاموش بیٹھے رہے میں اُن سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے نفس کو ٹولیں اور اس امر پر غور کریں کہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے جس قدر قربانی کی ضرورت ہے کیا اُس قدر