خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 739
خطابات شوری جلد سوم جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔۷۳۹ مشاورت ۱۹۶۰ء پس تقویٰ اللہ کے حصول کی کوشش کرو۔اپنی آئندہ نسلوں میں دین کی محبت پیدا کرو۔انہیں اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے وقف کرو، اشاعت احمدیہ کے لئے ہر قسم کی مالی اور جانی قربانیوں میں حصہ لو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ وہ ہماری ناچیز کوششوں میں برکت ڈالے اور ہمارے کاموں کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ نتیجہ خیز ثابت کرے تا کہ ہم نے یہاں جو وقت صرف کیا ہے وہ ضائع نہ ہو اور ہم خدا تعالیٰ کے نزدیک جھگڑالو قرار نہ پائیں بلکہ اُس کے دین کے خدمت گزار اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ایمان ، اخلاص اور تقویٰ پیدا کرے اور ہمارے قلوب میں ایسی محبت اور عشق بھر دے کہ بغیر اس کے مل جانے کے ہماری سوزش میں کمی واقع نہ ہو۔ہماری گھبراہٹ دور نہ ہو ، ہمارا جوش کم نہ ہو اور ہماری راحت اور ہمارا چین سوائے اس کے کسی اور چیز میں نہ ہو کہ ہمیں اُس کا قرب حاصل ہو جائے اور ہم اُس کے وصال سے لطف اندوز ہوں ، ہماری ہر قسم کی خوشی اور امید اُس سے وابستہ ہو اور ہماری محبت اور چین اُس کے رسولوں خصوصاً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستگی اور ان کی تعلیموں اور منشاء کے مطابق چلنے میں ہو اور ہم اُن کے نام کو دُنیا میں پھیلانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے اور ہماری زبانوں میں برکت ڈالے تا کہ ہم دوسرے لوگوں کو بھی خدائے واحد کے کلام کی طرف کھینچ سکیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم خدا تعالیٰ کے کلام سے محبت کرنے والے، اُس کی تعلیم سے پیار کرنے والے، اس کے حکموں کو پھیلانے والے اور اُس کے بندوں سے محبت کرنے والے ہوں۔آپ لوگوں نے اس وقت آمین آمین تو کہا مگر آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر تبلیغ پر زور دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک ایک سال میں تھیں تھیں ہزار احمدی ہوتا تھا۔اب تو ۳۰، ۳۰ ، ۴۰ ، ۴۰ لاکھ سالانہ احمدی ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح ناصری کی اُمت نے ۱۹۰۰ سال کی عمر پائی ہے۔ہم دُعا کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو ۱۹۰۰۰ سال