خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 58

خطابات شوری جلد سوم ۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ سے ناظر صاحب بیت المال اگر چاہیں تو بہت بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اگر جماعت دس لاکھ روپیہ چندہ دیتی ہے تو دس لاکھ روپیہ چندہ دینے کی وجہ سے جو ثواب فرداً فرداً مختلف لوگوں کو ملے گا وہ تمام ثواب مجموعی طور پر ناظر صاحب بیت المال کو بھی ملے گا کیونکہ انہوں نے ہی یہ تحریک جماعت کے سامنے کی ہوگی اور اُنہی کی متواتر یاد دہانیوں کے نتیجہ میں یہ چندہ جمع ہوا ہو گا۔حالانکہ دس لاکھ رو پیدا اگر کوئی ناظر اپنے طور پر چندہ میں دینا چاہے تو وہ ساری عمر میں بھی نہیں دے سکتا لیکن اس ذریعہ سے وہ بڑی آسانی سے دس لاکھ روپیہ چندہ دینے کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح ہر انسپکٹر بیٹ المال جو اس سلسلہ میں کام کرتا ہے اگر وہ دیانت داری سے کام کرتا ہے، اگر وہ اخلاص سے کام کرتا ہے، اگر وہ محنت سے کام کرتا ہے اور سلسلہ کا چندہ دس ہزار روپیہ سے پندرہ ہزار روپیہ تک ترقی کر جاتا ہے تو جہاں پانچ ہزار روپیہ دینے کا ثواب اُن لوگوں کو ملے گا جنہوں نے اس چندہ میں حصہ لیا، وہاں پانچ ہزار روپیہ اللہ تعالیٰ کے حضور انسپکٹر بیت المال کے نام بھی لکھا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ پانچ ہزار روپیہ فلاں انسپکٹر بیت المال نے بطور چندہ دیا ہے حالانکہ اگر وہ کوشش بھی کرے تو ساری عمر میں پانچ ہزار روپیہ چندہ نہیں دے سکتا۔گویا ذراسی محنت اور ذرا سی کوشش سے وہ ایک دورہ میں ہی اتنا ثواب حاصل کر سکتا ہے جو اُسے ساری عمر انفرادی جدو جہد کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہر سیکرٹری مال جو اس کوشش اور جد و جہد میں اپنے اوقات لگا دیتا ہے اُس کی اس کوشش اور سعی سے جتنا جتنا چندہ اکٹھا ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ سب اُس کے نام پر لکھا جاتا ہے کیونکہ ہمارا خدا جس طرح نیک عمل میں حصہ لینے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے اُسی طرح وہ عملِ صالح کی تحریک کرنے والوں کو بھی ثواب دیتا ہے۔پس ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب حاصل کرنے کے عظیم الشان مواقع ہیں۔اگر ان عظیم الشان مواقع کے ہوتے ہوئے پھر بھی ہم غفلت سے کام لیں اور کوتاہی کا ارتکاب کریں تو یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہو گی ورنہ خدا نے ہمارے لئے ثواب کے مواقع بہم پہنچانے میں قطعاً نجل سے کام نہیں لیا۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ چھپیں لاکھ روپیہ کا ریز روفنڈ صرف ہمارا ابتدائی قدم ہے ورنہ ہماری خواہش تو یہ ہونی چاہئے