خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 724
خطابات شوری جلد سوم " ۷۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء چونکہ ۴۱۵ دوست اس تجویز کے حق میں ہیں اور باقی صرف ۱۶ نمائندگان ایسے رہ جاتے ہیں جنہوں نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا اس لئے میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے بجٹ آمد تحریک جدید کو منظور کرتا ہوں۔یہ غیر ملکوں کا بجٹ ہے اور ان کے نمائندے اس وقت یہاں موجود نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لئے بھائی کو بھائی کے حقوق کی نگرانی کرنی چاہئے۔نمائندگان یہ خیال نہ کریں کہ یہ بجٹ پاکستان کا نہیں اس لئے ہمیں اس کے متعلق غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہمیں نائیجیریا اور گولڈ کوسٹ ایسا ہی پیارا ہے جیسے پاکستان۔امریکہ کے نو مسلم بھی ہمیں ویسے ہی پیارے ہیں جیسے پاکستان کے احمدی۔لیبیا کے نو مسلم بھائی بھی ہمیں ویسے ہی پیارے ہیں جیسے پاکستان کے احمدی۔اسی طرح سیرالیون میں جو احمدی ہیں وہ بھی ہمیں ویسے ہی پیارے ہیں جیسے پاکستان کے احمدی۔ہمارے نزدیک ان میں اور پاکستان کے احمدیوں میں کوئی فرق نہیں اس لئے انہیں اس بات کی تسلی رکھنی چاہئے کہ اُن کے پاکستانی بھائی ان کے حقوق کی حفاظت کر رہے ہیں۔جب پاکستان قائم نہیں ہوا تھا اُس وقت بھی ساری دُنیا تسلیم کرتی تھی کہ ہندوستان کے احمدی غیر ملکی بھائیوں کے حقوق کو ادا کر رہے ہیں اور خود بُھو کے رہ کر ان کے لئے چندہ دیتے ہیں اور ان کے ملکوں میں مبلغ بھیج رہے ہیں۔اختتامی تقریر مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ۲۶۔اپریل ۱۹۵۸ء کو حضور نے احباب کو الوداعی خطاب سے نوازا۔اپنی کمزوری اور گرمی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - میں چاہتا تھا کہ آج ہی دوست فارغ ہو جائیں تا کہ میں بھی واپس جاسکوں آجکل تو جابہ بھی بڑا سخت گرم ہے لیکن ربوہ کی نسبت ٹھنڈا ہے۔پچھلی دفعہ جب ہم وہاں گئے تھے تو ہم لحاف اوڑھ کر کمروں کے اندر سوتے تھے لیکن اس دفعہ اگر چہ ہم کمروں کے اندر ہی سوتے رہے لیکن کپڑا اوڑھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔پچھلی دفعہ ان دنوں وہاں کا درجہ حرارت ۸۱ تھا، اس دفعہ ۹۴ تھا۔بہر حال وہاں ربوہ سے کم گرمی پڑتی ہے۔مجھے یاد ہے میری جوانی