خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 703

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء نقل ہوگی اور ہاں کہیں گے تو بھی نقل ہوگی۔میں حافظ عبدالسلام صاحب کو کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ مجھ سے آکر مشورہ لیا کریں لیکن وہ تین تین مہینہ تک مجھے شکل بھی نہیں دکھاتے اور صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اعلیٰ میاں غلام محمد صاحب اختر مجھ سے کبھی اپنی شکل نہیں چھپاتے۔اُن کو دیکھ کر مجھے وہی بات یاد آ جاتی ہے کہ جب میں یورپ میں گیا تو ایک جرمن عورت میرے پاس آئی۔اُس نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ جنرل نجیب نے مجھے ایک دفعہ سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس بھیجا اور اُس نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے سے شادی کر لو۔میں نے کہا شکر کرو تم بچ گئیں کیونکہ اُن کی تو بہت سی بیویاں ہوتی ہیں۔وہ کہنے لگی ساری بیویاں نہیں ہوتیں true wife ایک ہی ہوتی ہے باقی سب داشتہ ہوتی ہیں۔پھر کہنے لگی جب اسلام نے مسلمانوں کو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے اور میں بھی مسلمان ہوگئی ہوں تو مجھے ایک سے زیادہ بیویوں پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔پھر وہ کہنے لگی میری کئی دفعہ پادریوں سے گفتگو ہوئی ہے۔ایک دفعہ ایک پادری نے تعددازدواج کے خلاف تقریر کی تو میں نے کہا تم بڑے بیوقوف ہو۔عورت تو میں ہوں سوکن مجھ پر آنی ہے یا تم پر آنی ہے؟ مجھے تو سو کن آنے پر کوئی اعتراض نہیں اور تم خواہ مخواہ چڑتے ہو۔میں تو اسلام کے اس حکم کو غنیمت سمجھتی ہوں کیونکہ اسلام نے گومرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے اُنہیں ایک جیسا کھانا کھلاؤ، ایک جیسے کپڑے دو، ایک جیسا مکان دو۔جب یہ چیز موجود ہے تو عورتوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ہم کورٹ شپ کے بعد شادی کرتے ہیں مگر دو سال تک کورٹ شپ کرنے کے باوجود پھر بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔اگر تعدد ازدواج کی صورت میں میرا خاوند مجھ سے لڑے گا تو اتنا تو ہوگا کہ ایک مکان میرا ہو گا اور اس کے ساتھ ہی ایک مکان میری سوکن کا ہو گا اور اس کے ساتھ ایک مکان میری تیسری سوکن کا ہوگا۔میں خاوند کا بازو پکڑوں گی اور اُسے دوسرے گھر میں دھکیل دوں گی کہ سارا دن میں نے تیرا منحوس منہ دیکھا ہے، اب وہ تیرا منہ دیکھے۔اگر یہ ہوتا کہ کورٹ شپ کی وجہ سے ہماری کبھی لڑائی نہ ہوتی تو پھر تو کوئی بات بھی تھی لیکن جب ہماری بھی لڑائیاں ہوتی ہیں تو پھر اسلام کی اس اجازت سے اتنا تو فائدہ ہوسکتا ہے کہ جب خاوند کی عورت سے لڑائی ہو تو وہ اُس کا بازو پکڑ کر اُسے دوسری بیوی کے گھر میں دھکیل دے اور خود اس کا