خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 702

خطابات شوری جلد سوم ۷۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء و ہیں نیورمبرگ میں ہم نے محمود ترکی مبلغ مقرر کیا تھا۔اگر وہاں کوشش کی جائے تو ایسے لوگ احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں جو اچھے پایہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔پس میں اضافہ بجٹ کے تو مخالف نہیں لیکن میرے نزدیک اضافہ کی جو تقسیم کی گئی ہے وہ غور کے ساتھ نہیں کی گئی حالانکہ ان ساری باتوں کے متعلق میں نے خود وکیل التبشیر سے باتیں کی تھیں اور انہیں بتایا تھا کہ یہ تجاویز ضروری ہیں، لیکن ان پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔اس لئے اگر جماعت اس اضافہ کے حق میں رائے دینا چاہے تو بے شک دے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس اضافہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ جو ضروری جگہیں تھیں اُنہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ان حالات میں میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ لوگوں کے سامنے تحریک جدید کا بجٹ پیش کروں۔اگر ہندوستان اور پاکستان کی بات ہوتی تو میں پیش کر دیتا لیکن یہ ہندوستان اور پاکستان کی بات نہیں کہ آپ اسے سمجھتے ہوں اس لئے آپ جو بھی رائے دیں گے محض رسمی ہوگی یا تو آپ سب کمیٹی کے حق میں ووٹ دے دیں گے کہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی ہے یا یہ خیال کریں گے کہ خلیفہ اسیح نے یہ باتیں بیان کی ہیں، میری تجاویز کے حق میں ووٹ دے دیں گے اور اس طرح یہ ووٹ آزاد نہیں ہوں گے۔“ اس موقع پر مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے درخواست کی کہ چونکہ نمائندگان جماعت تحریک جدید کے اخراجات اور ضروریات کا علم نہیں رکھتے اس لئے ہماری درخواست ہے کہ حضور خود ہی جس رنگ میں مناسب سمجھیں اس بجٹ کی منظوری دے دیں۔حضور نے فرمایا:۔66 یہ ذمہ داری تو بہت زیادہ ہے لیکن مجھے اس کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔تحریک جدید کے وکلاء کو مشورہ کی ھدایت تحریک جدید کے وکلاء کو چاہئے تھا کہ جس طرح صدر انجمن احمدیہ والے مجھ سے مشورہ لیتے رہتے ہیں وہ بھی مشورہ لیتے رہتے۔اس کے نتیجہ میں کم سے کم میں اس وقت جماعت کے سامنے بجٹ تو پیش کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ رائے دو، ہاں کہو یا نہ کہو۔مگر اب یہ بجٹ ایسی شکل میں پیش کیا گیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نہ کہیں گے تو بھی۔