خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 699 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 699

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء توجہ کی جائے۔گویا فوری توجہ کے قابل علاقہ نبی اور ڈچ گی آنا ہے۔پھر ڈچ اور فرنچ گی آنا کے درمیان برٹش گی آنا پڑا ہوا ہے، وہاں بھی کوئی مبلغ جانا چاہئے۔ایک طالب علم برٹش گی آنا کا یہاں سے پڑھ کر گیا ہے۔اُس نے کہا تھا کہ میں وہاں جا کر تبلیغ کروں گا اگر وہ وہاں چلا گیا تو ممکن ہے یہاں سے مبلغ بھیجنے کی ضرورت نہ رہے۔پھر خود ڈچ گی آنا میں ایک ایسے مبلغ کی ضرورت ہے جو کچھ تھوڑی سے ڈچ زبان بھی جانتا ہو یا پھر انڈونیشین جانتا ہو تا کہ انڈونیشین لوگوں میں جو وہاں بڑی تعداد میں ہیں تبلیغ کی جا سکے۔غرض یہ علاقے جو میں نے بتائے ہیں ایسے ہیں کہ اگر وہاں تبلیغ کی جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میں احمدیت سارے ملک پر غالب آ سکتی ہے۔یہ تجاویز میں نے دفتر والوں کو بتائی تھیں مگر ان کا بجٹ میں کسی جگہ بھی ذکر نہیں کیا گیا۔“ پھر بجٹ تحریک جدید کے سلسلہ میں مختلف جدید اخراجات کی تجویز پیش ہونے پر حضور نے فرمایا: - حافظ صاحب نے مسجد لندن کی مرمت کا ذکر کرتے ہوئے ” کچھ عرصہ“ کہدیا ہے حالانکہ میں ۱۹۲۴ء میں لنڈن میں گیا تھا اور وہاں مسجد بنوائی تھی اور ۱۹۵۵ء میں وہاں گیا گویا ۳۱ سال کا عرصہ ہو چکا ہے مگر ابھی تک مسجد کی مرمت نہیں ہوئی تھی۔ان ۳۱ سالوں کا نام انہوں نے ” کچھ عرصہ رکھدیا ہے۔“ اس کے بعد فرمایا:۔جدید اخراجات کے متعلق اگر کوئی دوست ترمیم پیش کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں مگر یہ یاد رہے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ غیر ممالک کا کام ہے اور آپ لوگ اس ناواقف ہیں، اس لئے لازمی طور پر مجھے اس کی تشریح کرنی پڑتی ہے۔کم خرچ سے زیادہ کام کریں اُنہوں نے کہا ہے کہ جو مبلغ باہر جائیں گے ان کو موٹر چلانی سکھائی جائے گی مگر میرے نزدیک اُنہوں نے اس سکیم پر عمل کرنا ہے تو انہیں کم سے کم ۷۵ ہزار کی رقم بجٹ میں بڑھانی چاہئے کیونکہ جس مبلغ کو یہ موٹر ڈرائیوری سکھائیں گے اس نے باہر جاتے ہی لکھ دینا ہے کہ اس ملک میں