خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 698 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 698

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء گیا تھا اُس وقت بھی وہاں کی جماعت نے میرے پاس درخواست کی تھی کہ یہاں ایک اور مشنری رکھا جائے۔اتفاقاً ہمیں ایک ٹیونیشین عرب مل گیا اور ہم نے اُس کو مشنری مقرر کر دیا۔ہمارے آنے کے بعد وہ اپنے ملک چلا گیا۔اب وہ وہاں سے واپس آ گیا ہے اُس ا نے کہا ہے کہ میں وہاں شادی بھی کر آیا ہوں اور وہاں جا کے تبلیغ بھی کر سکتا ہوں۔میرے ذریعہ وہاں دو آدمی احمدی ہوئے ہیں اور اس علاقہ میں احمدیت کے پھیلنے کا امکان ہے۔پس جرمنی اور ٹیونس ایسے تھے جن میں نئے مشن کھولنے ضروری تھے۔ہم نے امریکہ سے اپنے مبلغ کو جاپان بھجوایا تھا۔واپس جاتے ہوئے وہ فلپائن ہو کے آیا تھا۔وہاں بھی اس وقت تک تقریباً ۳۸ احمدی ہو چکے ہیں اور یہ زیادہ تر یو نیورسٹی کے طالب علم لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔وہاں سے ایک شخص نے زندگی بھی وقف کی ہے مگر ابھی تک وہ یہاں نہیں پہنچ سکا کیونکہ وہ ایک فرم کا ملازم ہے اور وہ ابھی اُس کو چھوڑ نہیں رہی۔وہاں کیتھولک مذہب کا زیادہ اثر ہے اور کیتھولک مذہب والے بڑے متعصب ہوتے ہیں۔وہ کسی نہ کسی بہانہ سے ہمارے آدمی کو وہاں جانے سے روکتے ہیں۔چنانچہ ہم نے ملایا سے بھی کوشش کی کہ ہمارا مبلغ وہاں چلا جائے ، وہ علاقہ قریب ہے مگر اس کے راستہ میں بھی روک پیدا ہوئی۔آخر ایک انگریزی نمائندہ نے ہمیں بتایا کہ وہاں کی حکومت نہیں چاہتی کہ یہاں کوئی مسلمان آئے کیونکہ وہ سخت متعصب ہے۔ڈچ گی آنا میں احمدیت کی ترقی پھر ڈچ گی آنا سے اطلاعات آرہی ہیں کہ وہاں ایک اور مبلغ کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں کوئی چار سو کے قریب احمدی ہو چکا ہے اور پچاس ساٹھ ہزار کے قریب وہاں مسلمان آباد ہیں اور امکان ہے کہ سارے کے سارے احمدیت میں داخل ہو جائیں۔ایک خاص تعداد اُن میں انڈونیشی مسلمانوں کی ہے اور باقی ہندوستانی اور پاکستانی۔اگر وہ احمدی ہو جائیں تو سارا ملک ہی احمدی ہو جاتا ہے۔وہاں سے بھی درخواست آئی ہے کہ ایک اور آدمی بھیجا جائے تا کہ ہم یہاں مدرسہ کھولیں اور اس طرح تبلیغ کو وسیع کریں۔فنجی میں بھی مشن کھولنا ضروری ہے کیونکہ وہاں احمدی زیادہ ہیں گو وہ پنجابی ہیں۔اس جزیرہ کی دو چار لاکھ کی آبادی ہے اور یہ علاقہ اس قابل ہے کہ اس کی طرف