خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 695 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 695

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ان علاقوں میں احمدیت کے بڑھنے سے جماعت کی آمد پر اثر پڑے گا لیکن ابھی ہمیں مصلحتاً اور ان کے ایمان کی تقویت کے لئے اُن کی آمد انہیں پر خرچ کرنی پڑے گی اور کہنا پڑے گا کہ مبلغ ہم بھیجیں گے خرچ تم دیا کرو۔اس سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے کہ جو خرچ ہم نے وہاں بھیجنا ہوتا ہے وہ بچ جاتا ہے اور ہم اسی کو غنیمت سمجھتے ہیں تا یہ اعتراض نہ ہو کہ چندہ ہم دیتے ہیں اور پاکستانی کھا جاتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایمان میں اتنے مضبوط ہو جائیں کہ پاکستانیوں سے کہیں کہ ایک پیسہ چندہ بھی نہ دو ہم وہاں روپیہ بھیجیں گے۔اُس دن کا جب خود اُن کی طرف سے یہ تحریک ہو ہم انتظار کر رہے ہیں مگر جب تک وہ دن نہیں آتا ہمیں خوشی سے یہ خرچ برداشت کرنا پڑے گا اور ہمیں خوشی سے یہ بات منظور کرنا پڑے گی کہ مبلغ ہم بھیجتے رہیں اور اُن کا خرچ وہ دیں پس یہ پس منظر ہے تحریک جدید کی آمد کا۔اب اگر کوئی دوست بجٹ آمد کے متعلق کچھ کہنا چاہیں تو وہ اپنا نام لکھا دیں۔اگر چہ اس بجٹ پر بولنے کا حق صرف غیر ملکیوں کو ہے کیونکہ یہاں والوں کو کیا پتہ ہے کہ مثلاً گولڈ کوسٹ میں کون کونسی جماعت ہے اور وہ کیا چندہ دیتی ہے اور جو غیر ملکی یہاں موجود ہیں وہ طالب علم ہیں۔اُن کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کہیں۔لیکن اگر وہ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو کہہ سکتے ہیں۔لیکن یہاں والے تو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ہاں اگر کسی کو یہ پتہ ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے تو وہ بے شک کہے۔جیسے کوئی امریکی پاکستان میں سات دن بھی رہ جائے تو واپس جا کر کہتا ہے کہ میں All about Pakistan جانتا ہوں۔یعنی مجھے پاکستان کے متعلق ساری معلومات ہیں۔حالانکہ اُسے کچھ بھی معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔اسی طرح اگر کوئی پاکستانی بھی ایسا ہو جس نے ہمارے بجٹ سے All about Africa جان لیا ہو تو وہ بھی کچھ کہہ سکتا ہے۔ورنہ جو باہر سے آئے ہیں وہ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں۔“ اس موقع پر کراچی کے ایک نمائندے نے یہ ترمیم پیش کی کہ تحریک جدید والے بھی اپنے چندہ میں سے بڑی جماعتوں کو کچھ حصہ بطور گرانٹ دیا کریں۔اس پر حضور نے فرمایا:۔اس بات پر بھی تحریک جدید غور کرے وہ کہتے ہیں کہ تحریک جدید بھی اگر کچھ گرانٹ رکھے تو شاید اس ذریعہ سے ان علاقوں کے چندے بڑھ جائیں۔یہ تحریک کراچی کے