خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 678
خطابات شوری جلد سوم ۶۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کوشش کرتے ہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ کو دھوکا دینے والے موجود ہیں تو کیا ہم خدا تعالیٰ سے بڑھ کر ہیں کہ ہمیں کوئی دھوکا نہ دے۔اگر کوئی دھوکا دے گا تو اپنا انجام آپ خراب کرے گا۔ہمیں اس کے فکر کی ضرورت نہیں اور اگر وہ اخلاص سے کام لے رہا ہے تو ایک مخلص پر بدظنی کر کے تم اپنا انجام کیوں خراب کرتے ہو۔بہر حال جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں کہ عورتوں کی وصیت کے لئے اُن کے مہر کو بنیا د رکھا جائے اور ان کے خاوندوں سے بھی حصہ وصیت کی ادائیگی کے لئے عہد لے 66 لیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فیصلہ حضور کے ارشاد پر ۲۵۹ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا۔چونکہ اکثریت نے اس کی تائید کی ہے اس لئے میں بھی اکثریت کی رائے کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔اگر کوئی اور تجویز پیش ہوئی تو وہ اگلی شوریٰ میں آجائے گی ، یار زندہ صحبت باقی۔عورتوں نے تو بہر حال جنت میں ہمارے ساتھ رہنا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر کوئی مومن ہوگا تو خدا تعالیٰ اُس کی بیوی کو بھی جنت میں اس کے ساتھ رکھے گا۔پس آپ لوگ اگر عورتوں کو مقبرہ سے نکال بھی دیں تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں آپ لوگوں کے ساتھ رکھے گا بلکہ خاوند اگر بہشتی مقبرہ میں دفن ہے تو اس کی بیوی چاہے کسی روڑی میں دفن ہو خدا تعالیٰ پھر بھی اُسے جنت میں اپنے خاوند کے پاس پہنچا دے گا۔پس زیادہ قیود اور پابندیاں عائد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ اس موقع پر مکرم چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے دریافت فرمایا کہ کیا ایک مومن عورت بھی اپنے خاوند کو اپنے ساتھ جنت میں لے جاسکتی ہے؟ حضور نے فرمایا۔” خاوند اور بیوی دونوں ایسا کر سکتے ہیں۔اگر بیوی اچھی ہو گی تو وہ اپنے خاوند کو اپنے ساتھ لے جائے گی اور اگر خاوند مخلص اور مومن ہوگا تو وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا۔اگر بیٹا بیٹی بھی اچھے ہوں گے تو وہ اپنے والدین کو اپنے ساتھ لے جائیں گے اور اگر والدین اچھے ہوں گے تو وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو اپنے ساتھ جنت میں