خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 671

خطابات شوری جلد سوم ۶۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء پندرہ بیس سکول کھول دیئے جائیں تو یہ ڈیڑھ دو سو روپیہ فی مہینہ خرچ ہے اور بارہ چودہ لاکھ کے بجٹ سے کسی ایک ضلع میں احمدیوں کو تعلیم دلانے کے لئے دوسو روپیہ ماہوار خرچ کر دینا کوئی بڑی بات نہیں۔پس امام مقرر کئے جائیں اس طرح مسجد میں بھی آباد ہوں گی اور مدر سے بھی بن جائیں گے۔پھر ہر مدرس کے آگے خلیفے ہوں گے جو کام کریں گے۔پرانے زمانہ میں جو خلیفے ہوتے تھے وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ کوئی مسجد ہمیں بھی مل جائے۔۱۹۱۲ء میں میں مدارس کا دورہ کرنے کے لئے گیا تو میں نے رام پور کا مدرسہ بھی دیکھا۔وہاں میں نے ایک طالب علم کو دیکھا جس کی بہت لمبی داڑھی تھی وہ بخاری پڑھ رہا تھا۔میں نے اُسے کہا آپ ابھی پڑھ رہے ہیں، آپ کے پڑھانے کا وقت کب آئے گا ؟ وہ اُٹھ کر ہمارے ساتھ آ گیا اور باہر آ کر کہنے لگا آپ کسی کو بتا ئیں نہیں میں اِس انتظار میں ہوں کہ میرا اُستاد مر جائے تو میں اس کی جگہ لے لوں۔ابھی تک وہ زندہ ہیں جب وہ مریں گے تو میں ان کی جگہ لے لوں گا۔غرض شا گرد اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ہمیں کوئی مدرسہ مل جائے۔اگر کسی کا کوئی اچھا شاگرد ہو تو وہ اُسے دوسرے محلہ کی مسجد میں بٹھا دے اور دفتر کو لکھ دے کہ آپ مجھے دس روپیہ دیتے ہیں اب پانچ روپے ماہوار اُسے بھیج دیا کریں، میں نے محلہ والوں سے روٹیاں لگوا دی ہیں۔اس طرح تھوڑے عرصہ میں ہی ایک ضلع کی تعلیم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔پھر دوسرے ضلع کی تعلیم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔مگر جو طریق ناظر صاحب تعلیم اختیار کر رہے ہیں کہ الفضل میں اعلان کرا دیا اس سے کچھ نہیں بنے گا۔بلکہ آہستہ آہستہ جواثر ہے وہ بھی لوگوں کے دلوں سے زائل ہو جائے گا۔تحریک جدید والوں کا یہ حال تھا کہ وہ ہمیشہ یہی لکھتے تھے کہ حضرت خلیفہ ایچ نے یوں فرمایا ہے۔میں نے اُنہیں ڈانٹا اور کہا کہ تم خلیفتہ اسیح کا رُعب بھی مٹانا چاہتے ہو۔تم میرا نام نہ لکھا کرو بلکہ یہ لکھا کرو کہ تمہارا فائدہ اِس میں ہے۔اس طرح ان کے دلوں میں چندہ دینے کی رغبت پیدا ہوگی۔میرا نام بار بار چھپنے سے پہلا اثر بھی نزائل ہو جائے گا۔کبھی لکھ دیا کہ ہم ۲۹ تاریخ کو چندہ پورا ادا کرنے والوں کی لسٹ خلیفہ امسیح کے سامنے پیش کریں گے۔پھر دو دن کے بعد چھپا کہ اب ہم ۳۱ / تاریخ کولسٹ پیش کریں گے۔پھر چھپا اگلے مہینے کی دو تاریخ کولسٹ پیش کریں گے۔میں نے کہا اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آخر