خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 670
خطابات شوری جلد سوم ۶۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء آخر ہم نے ساری جماعت کو بیدار کرنا ہے صرف ایک آدمی کو بیدار نہیں کرنا اور جو طریق کا رسوچا گیا ہے اس سے بجٹ پر ہی بوجھ پڑتا ہے اور بجٹ اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمیں اس سلسلہ میں وہ طریق سوچنے چاہئیں جن کی وجہ سے بجٹ پر بوجھ نہ پڑے۔ہمیں اپنے باپ دادوں کے پرانے طریق کو اختیار کر کے جو اُن کا آزمایا ہوا ہے ساری جماعت کو تعلیم دینی چاہئے اور یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ ہم اس کام میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔پھر افسر تعلیم کے علاوہ ناظر تعلیم کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ دیہات میں دورے کریں اور دیکھیں کہ مرکز کی ہدایات کے مطابق تعلیم کا سلسلہ جاری ہے یا نہیں۔اس وقت محکمہ تعلیم میں تین آفیسر ہیں ایک تو ناظر تعلیم ہیں وہ تو بہت بوڑھے ہو گئے ہیں۔دو اُن کے نائب ہیں، ایک نائب اگر چہ بوڑھے ہیں ۵۷، ۵۸ سال کی عمر کے ہوں گے مگر اُن میں کام کرنے کی ہمت ہے۔تیسرے شیخ مبارک احمد صاحب ہیں، وہ بالکل نوجوان ہیں۔وہ دیہات کے دورے کریں اور دیکھیں کہ کیا ہماری مسجد میں اس رنگ میں آباد ہیں یا نہیں۔اور جو امام مقرر کیا گیا ہے وہ امامت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا کام بھی کرتا ہے یا نہیں۔اُس کو کہیں کہ ہم تمہیں دس روپے ماہوار دیں گے اور جماعت کچھ غلہ وغیرہ مہیا کر دے گی۔تم امامت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا کام بھی کرو۔پھر اس طرح قدم بقدم ضلعوار چلیں۔پہلے ایک ضلع کو لے لیں پھر اگلے ضلع کو لے لیں۔بجائے اس کے کہ ہم کہیں انے سارے پنجاب میں یہ کام شروع کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا۔یہ بہتر ہے کہ ہم کہیں کہ ہم نے ضلع جہلم کی ساری جماعتوں کو پڑھا دیا ہے، ہم نے ضلع گوجرانوالہ کی سب جماعتوں کو پڑھا دیا ہے، ہم نے ضلع گجرات کی ساری جماعتوں کو پڑھا دیا ہے۔پس تم جو امام رکھو اُس کے سپر د تعلیم کا کام بھی رکھو۔دس روپے خود ماہوار دو اور جماعت کو تحریک کرو کہ وہ کچھ غلہ مقرر کر دے اور افراد کو کہہ دیا جائے کہ جب تمہارا غلہ نکلے تو اتنا غلہ تم اپنے امام اور مدرس کو دے دیا کرو۔اگر لوگوں کو اس کی عادت پڑ جائے اور غلہ سے وہ اپنے مولوی کی مدد کر دیا کریں تو دس روپیہ ماہوار میں اچھا تو نہیں مگر غریبانہ گزارہ ہو جاتا ہے اور اس ذریعہ سے ہم ہر جگہ سکول کھول سکتے ہیں۔ایک ضلع میں اس قسم کے