خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 663 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 663

خطابات شوری جلد سوم ۶۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء جو شوری نے انہیں بتائی ہیں لیکن اُنہوں نے نظارتوں کے سب کام لے لئے اور بتانا شروع کر دیا کہ ہم نے یہ یہ کام کیا ہے۔محکمہ زراعت کے متعلق ہدایات صرف ایک محکمہ تھا جو اُن کا اپنا تھا اور وہ زراعت کا محکمہ ہے۔اس کے متعلق وہ بے شک جائز طور پر بعض باتیں بیان کر سکتے تھے مگر اس وقت بھی ان کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں یہ باتیں بطور ناظر زراعت کے پیش کر رہا ہوں، ناظر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے نہیں کر رہا۔چونکہ مجھے ناظر زراعت بھی مقرر کیا گیا ہے اس لئے میں زراعت کے محکمہ کی چیزیں پیش کرتا ہوں۔اتنی بات ان کی معقول تھی لیکن غلطی یہ تھی کہ ناظر اعلیٰ کے عہدہ کے ساتھ اُنہوں نے یہ باتیں پیش کیں حالانکہ وہ باتیں ناظر زراعت کے عہدہ کے ماتحت آتی ہیں۔اور اس محکمہ کا اپنا یہ حال ہے کہ تعریفیں تو انہوں نے بڑی کی ہیں لیکن جو انسپکٹر زراعت مقرر کیا گیا ہے پچھلے تین ماہ میں صرف چار یا پانچ دفعہ اس کا نام میرے سامنے آیا ہے مگر دوروں کے لئے نہیں بلکہ چونکہ وہ چوہدری فتح محمد صاحب کا بھتیجا ہے انہوں نے چار یا پانچ دفعہ مجھے آ کر یہ کہا کہ اس کا ایکس رے کرانا ہے کیونکہ وہ بہت دیر سے بیمار چلا آ رہا ہے بلکہ ابھی چار پانچ دن ہوئے اُنہوں نے پھر کہا ہے کہ ہسپتال کی طرف سے رپورٹ آئی ہے کہ ایک دفعہ اور اس کا ایکسرے کرنا ہے۔سوائے چوہدری صاحب کے اس بیان کے اس کا نام میرے سامنے کبھی نہیں آیا۔اب میں سندھ گیا تھا تو اختر صاحب اُسے بھی ساتھ لے گئے تھے۔اس دورہ کے سوا اس کے کسی دورہ کا مجھے علم نہیں مگر یہ ظاہر ہے کہ جو بیماری کی وجہ سے ہر تیسرے چوتھے دن ایکسرے کروا رہا ہے اُس نے زراعت کا کیا کام کرنا ہے۔زراعت کے انسپکٹر کو تو سارے پنجاب میں پھرنا پڑے گا۔گویا اُسے ہیں ہزار مربع میل کا چکر کاٹنا پڑے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ جس آدمی کو ہر وقت ایکسرے کروانا پڑتا ہے اُس نے بیس ہزار مربع میل کا چکر کیسے لگانا ہے۔پس نام کو تو اختر صاحب نے بتایا ہے کہ ہم نے ایک انسپکٹر زراعت رکھا ہوا ہے اور اس طرح بڑا تیر مارا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اتنے وسیع علاقہ میں ایک معمولی زراعت انسپکٹر کر ہی کیا سکتا ہے۔چوہدری سعد اللہ بی۔ایس سی ہیں اور زراعت کے بی۔ایس۔سی گورنمنٹ کی نگاہ میں ایک ادنیٰ افسر کی حیثیت رکھتے ہیں۔