خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 662

خطابات شوری جلد سوم ۶۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کی زبانوں کو تالا لگا ہوا ہے وہ کیوں نہیں باری باری رپورٹ پیش کرتے ؟ ناظر صاحب اعلیٰ کے سپر د جو کام ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ اُنہوں نے تعمیل فیصلہ جات کے سلسلہ میں اتنے معائنے نظارت تعلیم کے کئے ، اتنے معائنے بیت المال کے کئے، اتنے معائنے نظارت اصلاح وارشاد کے کئے اور اُن کو اِن اِن باتوں کی طرف توجہ دلائی۔پھر ناظر آتے اور اپنے اپنے صیغوں کا کام بتاتے۔مگر اختر صاحب نے سارے صیغوں کا کام اپنی طرف منسوب کر لیا ہے اور اس طرح اپنے عیب کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔پھر اُنہوں نے رپورٹ کیا پیش کی ہے ایک ست ناجا پکا کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جو شیعہ لوگ محرم کے موقع پر پکاتے تھے۔ہماری دائیاں جو پرانے زمانہ کی عورتیں تھیں وہ بھی ست ناجا پکا یا کرتی تھیں۔اصل میں یہ ست نا جاشیعوں میں حضرت امام حسین کی نیاز دی جاتی ہے۔وہ دائیاں کبھی کبھی ایک تھالی ہمارے گھر میں بھی بھیج دیتی تھیں۔ہم بچے تھے اور وہ ست ناجا کھا لیتے تھے۔اُس کے اندر چاول بھی ہوتے تھے ، گندم بھی ہوتی تھی ، چنے بھی ہوتے تھے ، ماش بھی ہوتے تھے ، گوشت بھی ہوتا تھا اور اس کوست ناجا کہتے تھے۔اسی طرح اختر صاحب نے کیا۔بجائے اس کے کہ وہ ناظر صاحب اصلاح وارشاد کے سپرد یہ کرتے کہ وہ اپنی رپورٹ پیش کریں، ناظر صاحب بیت المال کے سپرد یہ کرتے کہ وہ اپنے کام کی رپورٹ پیش کریں ناظر صاحب تعلیم کے سپرد یہ کرتے کہ وہ اپنے کام کی رپورٹ پیش کریں اور خود یہ بتاتے کہ میں نے شوری کے فیصلہ جات کے سلسلہ میں اتنے معائنے فلاں فلاں مہینہ میں نظارت تعلیم کے کئے ہیں۔فلاں مہینہ میں میں نے پانچ معائنے کئے ، فلاں مہینہ میں دس معائنے کئے اور فلاں مہینہ میں پندرہ معائنے کئے اور دیکھا که شوری کے فیصلوں کی کیا تعمیل ہو رہی ہے۔اُنہوں نے تمام صیغوں کا کام خود بیان کرنا شروع کر دیا۔ناظر اعلیٰ ناظر نہیں بلکہ ناظر اعلیٰ کے معنے ہیں کہ وہ انسپکٹنگ ناظر ہے۔انہیں بتانا چاہئے تھا کہ جنوری میں میں نے اصلاح وارشاد کے پانچ معائنے کئے۔نظارت تعلیم کے میں نے سات معائنے کئے۔نظارت بیت المال کے میں نے آٹھ معائنے کئے ، پھر فروری میں میں نے اتنے کئے اس طرح سارے سال میں اتنے اتنے معائنے ہر محکمہ کے ہو گئے۔ان معائنوں میں میں نے نظارتوں کو توجہ دلائی کہ وہ ان باتوں کی تعمیل کریں