خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 615
خطابات شوری جلد سوم ۶۱۵ رت ۱۹۵۶ء اور گیارہ ہزار روپیہ زرٹھیکہ۔میں نے کہا آپ تو بہت ہوشیار تھے پھر آپ نے یہ بیوقوفی کا کام کیوں کیا ہے۔آپ تو مارے گئے ، اس قدر رقم پوری کیسے ہوگی کیونکہ سات ایکڑ کے لحاظ سے گیارہ ہزار روپے کی رقم بہت زیادہ ہے۔اُنہوں نے کہا حضور! فکر کی کوئی بات نہیں۔یہ زمین شہر کے پاس ہے۔اس میں ہم پونڈا سے کماد بوئیں گے اور اس سے بہت زیادہ آمد ہوگی۔اس طرح نہ صرف ہم زر ٹھیکہ ادا کر سکیں گے بلکہ اپنے لئے بھی کچھ نہ کچھ بچا سکیں گے ، بہر حال یہ سودا خسارہ والا نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ مجھے ڈائریکٹر زراعت ڈلہوزی میں ملے۔ملاقات کے وقت پیداوار کا حساب ہونے لگا۔اُنہوں نے بتایا کہ زمیندار بہت ہوشیار ہوتے ہیں مجھے دو مربعے ملے تھے اور میں سمجھتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اڑھائی ہزار روپیہ ٹھیکہ پر چڑھ سکیں گے لیکن میرے پاس ایک زمیندار آیا اور اُس نے کہا مجھے اپنے مربعے ٹھیکہ پر دے دیں۔میں نے وہ دونوں مربعے اُسے ٹھیکہ پر دے دیئے اور اُس نے اس کے عوض سات ہزار روپے پیش کئے۔میں نے سمجھا کہ میں نے اسے لوٹ لیا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ زمیندار مجھے مقاطعہ کے دینے کے لئے آیا۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ تمہیں کچھ زیادہ نقصان تو نہیں ہوا؟ اُس نے کہا نقصان، میں نے تو اٹھارہ ہزار روپیہ کمایا ہے۔سات ہزار روپیہ آپ کو دے رہا ہوں اور باقی گیارہ ہزار روپیہ بنک میں جمع کرا رہا ہوں اور ابھی ایک فصل باقی ہے۔پھر اُس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ آپ کی زمین کے پاس گورنمنٹ کے دس مربع زمین تھی۔اُس کو پانچ روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے بھی کوئی نہیں لیتا تھا۔ہم دونوں بھائی ہوشیار ہیں ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ والے دونوں مربعے اچھے ہیں ان سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے چنانچہ ہم نے سات ہزار روپیہ آپ کو پیش کیا اور چھ سو روپیہ پر گورنمنٹ والے دس مربعے ٹھیکہ پر لئے۔ہم نے سمجھا کہ ان دس مربعوں کا پانی آپ والے مربعوں کو دیں گے اور ان میں گنا بوئیں گے چنانچہ ان دس مربعوں کا پانی آپ والے دونوں مربعوں کو ملا تو گنا کی نہایت شاندار فصل ہوئی اور اب نہ صرف آپ کو زرٹھیکہ تمام کا تمام ادا کر دیا گیا ہے بلکہ گیارہ ہزار روپیہ کی رقم ہم نے بنک میں بھی جمع کرا دی ہے اور ابھی ایک فصل باقی ہے۔پس ہوشیار زمیندار کافی آمد پیدا کر سکتے ہیں۔