خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 614

خطابات شوری جلد سوم ۶۱۴ ت ۱۹۵۶ء دوسرے ملک ہم سے کس قدر آگے بڑھ گئے ہیں۔بہر حال زمینداروں کی اصلاح بہت مشکل امر ہے اور یہ صرف دعاؤں سے ہی ہو گی۔آپ لوگ دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے زمینداروں کے دلوں کو بدل دے تا کہ وہ صحیح طور پر اپنے کام کی طرف توجہ کریں۔ابھی تک وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرتے ہیں۔وقت پر اور صحیح طور پر ہل نہیں چلاتے اور نہ وقت پر پانی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انکی طرف توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میری عمر اس وقت ۶۷ سال کی ہو رہی ہے اور میرا عمر بھر کا یہ تجربہ ہے کہ مسلمان زمیندار وقت پر ہل نہیں چلاتے۔قادیان میں ہمارے ارد گر دسکھ زمیندار تھے۔میں نے دیکھا کہ وہ تہجد کے وقت ہل چلاتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اُن کی فصلیں مسلمان زمینداروں کی فصلوں سے بہت اچھی ہوتی تھیں۔مسلمانوں کو یہ غصہ تھا کہ زمیندارہ پرس رسکھوں نے قبضہ کر لیا ہے لیکن میں اُنہیں بھی کہتا تھا کہ وہ قبضہ کیوں نہ کریں وہ محنت کرتے ہیں اور تم محنت نہیں کرتے۔جو محنت نہیں کرتا وہ کاٹے گا کیا۔بہر حال میرا یہ تجربہ ہے کہ سکھوں کی فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فصلیں رڈی ہوتی تھیں۔میں جب بھی کسی کی فصل دیکھتا تھا تو حیران ہوتا تھا کہ مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ایک دفعہ میں نے سندھ میں زمینداروں کو بڑا اچھا بیج مہیا کر کے دیا لیکن فصل میں پھر بھی کئی اور چیزیں اُگ آئیں۔میں نے جب دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا وہ تو مزارع کھا گئے ہیں اور اس کی بجائے رڈی بیج انہوں نے بو دیا ہے جس کی وجہ سے فصل میں اور کئی چیز میں اُگ آئی ہیں۔پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے زمینداروں کو عقل دے اور وہ اپنے فائدہ کے لئے ہی محنت سے کام لیں۔اس سے دُہرا فائدہ ہوگا یعنی نہ صرف زمینداروں کی آمد پہلے کی نسبت بڑھ جائے گی بلکہ جماعت کا بجٹ بھی بڑھ جائے گا اور تبلیغ کا کام زیادہ وسیع کیا جا سکے گا۔اگر احمدی زمیندار محنت کریں تو ہمارا بجٹ تین گنا ہو سکتا ہے لیکن مصیبت یہی ہے کہ وہ صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔سیالکوٹ کے ایک دوست غلام حسن صاحب ہیں ان کے بیٹے مولوی نذیر احمد صاحب مبشر گولڈ کوسٹ مشن کے انچارج ہیں اور ایک بھتیجا امریکہ میں مبلغ ہے وہ ایک دفعہ قادیان آئے انہوں نے کہا حضور دعا کریں میں نے اس دفعہ سات ایکڑ زمین گیارہ ہزار سالانہ کے ٹھیکہ پر لی ہے۔میں یہ سُن کر حیران ہو گیا کہ سات ایکڑ