خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 45

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء موجود نہ ہوں تو وہ قوم خواہ تعداد کے لحاظ سے کس قدر چھوٹی ہو دنیا پر غالب آ جاتی ہے اور بڑی سے بڑی قربانی بھی اُس کی نگاہ میں بالکل حقیر ہوتی ہے۔دیکھو میں نے پانچ ہزار مبلغین کا خرچ دو کروڑ روپیہ سالانہ بتایا ہے اور یہ اتنا بڑا خرچ ہے جو ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل نا قابل برداشت ہے۔لیکن ایک اور نکتہ نگاہ سے اگر دیکھو تو ہماری جماعت اس وقت چار پانچ لاکھ کے قریب ہے۔اس میں سے ہندوستان کی جماعت اڑھائی تین لاکھ سے کسی طرح کم نہیں۔اگر اس اندازہ کو صحیح سمجھ لیا جائے تو کم از کم بیس ہزار بالغ مرد ہماری ہندوستان کی جماعت میں ہی موجود ہیں۔ان میں ہزار میں سے پانچ ہزار مبلغین کا ملنا کونسی مشکل بات ہے۔اگر ہر شخص دین کی اہمیت کو سمجھ جائے ، اگر ہر شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنا اپنی سب سے بڑی سعادت اور کامیابی سمجھے اور اگر وہ سلسلہ سے ایک پیسہ لئے بغیر خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے دنیا میں نکل کھڑا ہو تو پانچ ہزار مبلغین جن کا اس وقت مہیا ہونا ہمیں سخت مشکل دکھائی دیتا ہے نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ میدان میں نکل آئیں اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل جائیں اور کفر پر اس طرح چھا جائیں کہ اسلام کے مقابلہ میں اُسے سر اُٹھانے کی تاب نہ رہے۔ضرروت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنے ایمان کا جائزہ لے اور دیکھے کہ کیا وہ صحیح معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور کیا وہ کہ سکتا ہے کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی اشاعت کی اُسی طرح میں اسلام کی اشاعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر یہ ایمان جماعت کے ہر فرد میں پیدا ہو جائے تو یہ سوال ہی باقی نہ رہے کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔آخر یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا تنخواہ لے کر کام کیا کرتے تھے؟ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی انجمن سے روپیہ لے کر تبلیغ کا کام شروع کیا تھا؟ آپ کو کسی انجمن کی طرف سے وظیفہ نہیں ملتا تھا ، کوئی ماہوار تنخواہ مقرر نہیں تھی لیکن پھر بھی آپ دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ اب دین کی خدمت کرنا ہی میرا کام ہو گا۔میں دن کو بھی خدمت کروں گا اور رات کو بھی اور اُس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک اس تاریک دنیا کو خدا تعالیٰ کے نور سے منوّر