خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 595

خطابات شوری جلد سوم ۵۹۵ مشاورت ۱۹۵۶ء چاہتا ہوں۔چنانچہ اُس نے وہاں جا کر بھی دُعا کی۔پھر اُس نے کہا میں تمہیں وہ کچھ بتاتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ جلد تمہیں ادھر لانے کے سامان پیدا کرے گا۔بہر حال دوستوں کو متواتر ایسی خوابیں آ رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ قادیان میں ہماری واپسی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنے والا ہے۔میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بھی میں ربوہ کا نام لینا چاہتا ہوں ، اس کی بجائے قادیان کا نام منہ سے نکلتا ہے۔مثلاً میں نے اگر کہنا ہو کہ ربوہ کب جانا ہے؟ تو یہ کہہ دیتا ہوں کہ قادیان کب جانا ہے۔پھر میں نے خود بھی رویا میں دیکھا کہ میں قادیان گیا ہوں۔دفتر کے نیچے سے اُئِم ناصر کے گھر کو جو رستہ جاتا ہے وہاں بیٹھا ہوں۔چھتری میں میں نے ہار ڈالے ہوئے ہیں۔میں نے چابیوں کا ایک کچھا نکالا اور میں اپنی بیویوں سے کہتا ہوں کہ چابیوں کو زنگ لگ گیا تھا اور مجھے شبہ تھا کہ کہیں تالے کھولتے وقت وہ ٹوٹ نہ جائیں اس لئے میں نے نئی چابیاں بنوائی ہیں اب ہم تالے کھول کر اندر چلے جائیں گے۔بہر حال یہ سب خوش خبریاں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی کیا تعبیر ہے اور کس رنگ میں اِن کا ظہور مقدر ہے۔البتہ ان خوابوں سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کی ترقی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنے والا ہے۔یہ ترقی کس شکل میں ظاہر ہوگی اسے وہ خود ہی جانتا ہے، ہمیں اس کا علم نہیں۔ہم یہی دُعا کرتے ہیں کہ جو ترقیات بھی ہمارے لئے مقدر ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے صحیح طور پر فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور حقیقی ایمان اور سچا تو کل ہمارے اندر پیدا کرے تا کہ اس کے سوا کسی اور کی طرف ہماری آنکھ نہ اُٹھے۔وہی ہمارا ملجا وماً ولی ہو۔وہی ہمارا سہارا ہو اور اسی کی مدد سے ہم اُس کے دین اور شریعت کو قائم کرنے والے ہوں۔ہماری اپنی اغراض مٹ جائیں اور صرف اُسی کی غرض اور اُسی کا مقصد ہمارے سامنے رہے۔“