خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 587

خطابات شوری جلد سوم ۵۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء بے شک انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں مگر ہمیں دُعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں غلطیوں سے بچائے اور بد دیانتی سے محفوظ رکھے کیونکہ غلطی سے بھی روپیہ ضائع ہو جاتا ہے۔پس دُعائیں کرو کہ جہاں اللہ تعالیٰ ہمیں غلطیوں اور بد دیانتی سے بچائے وہاں وہ ہماری اولا د کو بھی ہمیشہ کے لئے دیانت سے روپیہ خرچ کرنے کی توفیق دے اور ایسا کوئی وقت نہ آئے کہ ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے میں بخل محسوس کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ” الوصیت میں فرمایا ہے کہ مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہو گی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے۔بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر دایسے مال کئے جائیں، وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھاویں اور دُنیا سے پیار نہ کریں لے بہر حال شیطان ہر وقت انسان کے ساتھ لگا رہتا ہے ممکن ہے وہ ہم میں سے کسی کے دل میں شرارت کا خیال پیدا کرے۔اس کو شرارت کرنے کے کئی ڈھنگ آتے ہیں۔بعض دفعہ اس کی تحریک بظاہر نیک ہوتی ہے لیکن حقیقتاً وہ بُری ہوتی ہے۔جب جماعت نے خلافت جوبلی منانے کا فیصلہ کیا اور اس نے میرے لئے نذرانہ کے طور پر ایک رقم اکٹھی کی تو جلسہ سالانہ کے موقع پر میر محمد اسحاق صاحب نے جماعت کی طرف سے مجھے دو لاکھ ستر ہزار روپیہ کا چیک پیش کیا اور کہا کہ مصلح موعود کی پیشگوئی میں چونکہ یہ بھی ذکر آتا ہے کہ وہ صاحب دولت ہوگا اس لئے اس روپیہ سے حضور کے صاحب دولت ہونے کی ایک صورت پیدا ہوگی لیکن میں نے اُس روپیہ کو بھی اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بجائے جماعت پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا میں اس شرط پر اس روپیہ کو قبول کرتا ہوں کہ میں اسے اپنی ذات پر نہیں بلکہ جماعت پر خرچ کروں گا۔چنانچہ اب بھی وہ روپیہ بنک میں موجود ہے اور صدرانجمن احمد یہ اس کا زیادہ تر حصہ اسلام پر خرچ کرتی ہے اور کچھ حصہ وظائف پر خرچ کرتی ہے۔روپیہ تجارت میں لگا ہوا ہے تا کہ اس سے مستقل آمد کی صورت پیدا ہوتی رہے۔