خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 586
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۶ رت ۱۹۵۶ء ایک ایک ہزار روپیہ فی رات اُجرت تھی۔گویا اُس نے دولاکھ روپیہ صرف ایک رات میں نچنیوں کو دیدیا۔اس ملک کے والی کو پتہ لگا تو اُس نے شہزادہ کو ہدایت کی کہ ان ناچنے والیوں کو فوراً واپس کرو لیکن جو روپیہ وہ لے چکی تھیں وہ تو لے چکی تھیں وہ واپس نہیں آسکتا تھا۔اس طرح سے اُس نے چند دنوں میں ۲۰ لاکھ کے قریب رو پید ان عورتوں پر خرچ کیا۔اشاعت اسلام پر خرچ کیا جاتا تو اس سے کتنا فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا۔تحریک جدید کا بجٹ پانچ چھ لاکھ روپیہ سالا نہ ہوتا ہے اور پانچ چھ لاکھ روپیہ سے ہم ایسا اچھا کام کرتے ہیں کہ دنیا حیران ہوتی ہے۔اگر یہ ہیں لاکھ روپیہ ہمارے پاس ہوتا تو دُنیا کے چپہ چپہ پر تبلیغ ہو سکتی تھی لیکن اس شہزادہ نے وہ روپیہ چنیوں کو دیدیا۔پس روپیہ مسلمانوں کے پاس ہے لیکن انہیں خدمت دین کی توفیق نہیں ملی۔ہمارے پاس روپیہ نہیں لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ دُنیا کی خدمت کریں اور ہم ”نہیں“ سے وہ کام کر رہے ہیں جو دوسرے لوگ ” ہے“ سے بھی نہیں کر رہے۔پس دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیانت سے کام کرنے کی توفیق دے۔دشمن تو اب بھی اس بات کا قائل ہے کہ ہم نہایت دیانتداری سے کام کر رہے ہیں لیکن قوموں میں بعض افراد بد دیانت ہوتے ہی ہیں۔حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت علی کتنے پاکیزہ اور دیانتدار لوگ تھے لیکن اُن کی نسلوں میں بھی چور، ڈاکو، اور خائن پائے جاتے ہیں۔وہ اپنی ذات میں نہایت متقی اور ایمان والے لوگ تھے۔وہ دوسروں کے روپیہ کی حفاظت کرنے والے تھے لیکن اب ان کی اولا د راہ زن ہے اور دوسروں کے مالوں کو ناجائز طور پر اپنے تصرف میں لے آتی ہے۔پس مجھے ڈر ہے کہ ہماری اولادوں میں سے بھی کہیں چور، ڈاکو اور خائن لوگ پیدا نہ ہو جائیں جو سلسلہ کے روپیہ کی حفاظت نہ کرسکیں۔پس دُعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم جماعت کا بجٹ اس طرح بنائیں کہ اس کا ایک ایک پیسہ صحیح طور پر خرچ ہو اور اس کے نتیجہ میں اسلام مضبوط ہو پھر اس کام کی ہماری آئندہ نسلوں کو بھی توفیق ملے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کا یہ کریکٹر قائم رہے کہ دین کا جو روپیہ ان کے پاس آئے وہ بینک کے سیف سے بھی زیادہ محفوظ رہے۔وہ اس کا استعمال پوری عقل سے کریں اور اس میں سے ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔