خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 570

۵۷۰ خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء میں طوفان آیا تو تم نے لوگوں کی امداد کے لئے کوئی تحریک نہیں کی۔مشرقی بنگال میں طوفان آیا تو تمہارا فرض تھا کہ چاہے کچھ دیتے تم دیتے ضرور۔اُس وقت تم نے یہ بہانہ بنالیا کہ ہمارا مرکز ہے اگر اس سلسلہ میں مرکز کوئی ہدایت دے گا تو ہم اس پر عمل کریں گے۔میں تو اس بہانہ کو تب درست مانوں گا جب تمہارا اپنا بچہ یا کوئی اور رشتہ دار بیمار ہو اور پھر تم یہ بہانہ بناؤ۔اگر تم ایسے وقت پر یہ بہانا نہیں بنایا کرتے تو پھر تم مرکز کا نام لے کر اُسے بدنام کیوں کرتے ہو۔چندہ تم مرکز میں بھیجتے ہو اور اس کی بھی یہ حالت ہے کہ جو بھیجنے والا ہے وہ تو مرکز کی تحریک پر چندہ بھیج دیتا ہے اور جسے چندہ دینے کی عادت نہیں وہ پھر بھی بہانہ بنا دیتا ہے۔اس قسم کی دھوکا بازی کی ہزاروں مثالیں پائی جاتی ہیں۔یہی لوگ جو چندہ دیتے وقت کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتے ہیں کیا اپنے بیوی بچوں کا علاج کرتے وقت بھی وہ اس قسم کا بہانہ بنایا کرتے ہیں؟ وہ سفر بھی کرتے ہیں، اپنے رشتہ داروں کی خدمت بھی کرتے ہیں اور کبھی مرکز کا بہانہ نہیں بناتے۔وہ بھی تو تمہارے بھائی ہی ہیں۔اگر تم نے اُن پر کچھ خرچ کر دیا تو کیا ہوا۔اگر تم مصائب کے وقت میں آگے آؤ اور لوگوں کی مدد کرو تو جب تمہارے خلاف دشمن کوئی بات کرے گا تو وہ بھی آگے آئیں گے۔گزشتہ سال کے فسادات کی تحقیقات کے لئے کمیشن مقرر ہوا تو وہاں ہمیں یہی رونا رونا پڑا ہے کہ ہم لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر یہ کام جماعتی طور پر ہوتا تو ہمیں ہر جگہ یہ رونا کیوں رونا پڑتا کہ ہم لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر مصیبت کے وقت سرگودہا ، سیالکوٹ ، سندھ، بنگال، کراچی اور سرحد کی جماعتیں نکل کھڑی ہوتیں اور لوگوں کی بھائیوں کی مانند خدمت کرتیں تو اس قسم کا جواب دینے کی ہمیں ضرورت پیش نہ آتی۔جب یہ فتنہ اُٹھا تھا ہر جگہ کے لوگ تمہاری مدد کے لئے نکل کھڑے ہوتے۔اب تو ہماری مدد کا ریکارڈ مسلم لیگ کے رجسٹروں کے سوا اور کہیں نہیں۔لوگ تمہیں کیا سمجھیں؟ میرا مطلب یہی تھا تم لوگ اپنے قلوب کی اصلاح کرو اور ایسے کام کرو کہ دوسرے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ تم خدمت خلق کرتے ہو کیونکہ خدمتِ خلق ہی اصل چیز ہے اور یہ ہر جگہ ہو سکتی ہے۔اپنی آمد میں گزارا کریں ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی زیادتی کے متعلق میں نے کہا تھا۔میں نے اس کے متعلق مختلف آراء پڑھی ہیں جن کا مطلب