خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 553
خطابات شوری جلد سوم ۵۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کوئی سوال نہیں، ہر شخص کو ملاقات کا حق ہوتا ہے اور وہ ملاقات کرتا ہے۔قادیان کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص بہت غریب تھا اُس نے یہ کہنا شروع کیا کہ آپ امیروں کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں غریبوں کے ہاں دعوت نہیں کھاتے۔اُس شخص کی اپنی یہ حالت تھی کہ میرا خیال یہ تھا کہ اگر وہ سامنے دال روٹی بھی رکھے گا تو اُسے تکلیف ہو گی لیکن ہر دو تین ماہ کے بعد وہ میرے پاس آتا اور کہتا کہ آپ غریبوں کی دعوت نہیں کھاتے۔آپ میری دعوت قبول کریں۔میرے گھر آئیں اور وہاں بیٹھ کر کھانا کھائیں۔آخر میں نے کہا میں تمہاری دعوت مان لیتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم سالن پکا و یا دال یعنی ان دونوں میں سے کچھ پکاؤ مگر ہو ایک ہی چیز اور اس کے ساتھ پھلکے پکالیں، چاول نہیں پکانے۔اگر تم نے سالن اور دال دونوں چیز میں پکا لیں یا چاول پکالئے تو میں تمہاری دعوت قبول نہیں کروں گا۔اُس نے کہا مجھے یہ شرط منظور ہے۔وہ شخص مجھ سے اخلاص رکھتا تھا اُس نے میرا مطلب سمجھ لیا۔چنانچہ جس دن دعوت تھی اُس نے پتلا سا شور بہ بنالیا اور اُس کے ساتھ پھلکے تیار کر لئے۔میں اُس کے گھر گیا اور کھانا کھایا۔کھانا سے فارغ ہو کر میں اُس کے گھر سے باہر نکلنے لگا تو غالباً سیالکوٹ کے ایک دوست دروازے پر کھڑے تھے۔اُنہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کسی ایسے غریباں دی دعوت وی کھالیندے او‘ میں نے کہا اس شخص کی یہ بات کہ کسی غریباں دی دعوت نہیں کھاندے، میں نے تین سال سُنی ہے۔اب تمہاری یہ بات تین سال تک سُن لوں گا۔اس پر وہ شخص شرمندہ ہو گیا اور واپس چلا گیا۔غرض ایک طرف تو وہ امیر شخص تھا جس کو غریب کے ہاں میرا جانا بُرا لگا۔اور دوسری طرف وہ غریب شخص تھا جو مجھے تین سال تک یہ کہتا رہا کہ آپ غریبوں کی دعوت قبول نہیں کرتے اور آخر مجھے اُس کی دعوت منظور کرنی پڑی۔تو اعتراض کرنے والے بعض اوقات اعتراض کرتے رہتے ہیں اور حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے۔اب ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہمارے لئے مخالفت اور ہماری ذمہ داری اس ملک میں رہنا بھی محال بنایا جا رہا ہے۔ہر سیاسی تغیر جو ملک میں پیدا ہوتا ہے اس کو ہماری مخالفت کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔بنگال میں جو الیکشن ہوا اُس کا احمدیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اُدھر مسلم لیگ والے صوبہ میں