خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 552

خطابات شوری جلد سوم ۵۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء نہیں ہوا ؟ کھانسی تو نہیں ہوئی ؟ نزلہ تو نہیں ہوا، پیاس تو لگتی ہے؟ نیند آتی ہے یا نہیں؟ کچھ کھاتے پیتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر حالات پر غور کرنے کی عادت ہو، سو چنے کی عادت ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جب آپ کوئی بات کریں گے تو معقول کریں گے، اس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہوگا۔بہرحال میرا گلہ پھر خراب ہو گیا ہے اور اس کے اندر سے پانی نکلتا ہے۔زخم کے ابتدائی دنوں میں بھی یہ تکلیف پیدا ہو گئی تھی اس لئے ڈاکٹروں سے دوبارہ مشورہ لینا پڑے گا۔زخم کے ابتدائی دنوں میں رات کے وقت جب تک میری آنکھ نہیں گھلتی تھی میں کروٹ نہیں بدل سکتا تھا۔آنکھ کھلنے پر سہارا لے کر کروٹ بدلتا تھا۔آج رات بھی یہی حالت رہی کہ میں سوتے سوتے کروٹ نہیں بدل سکتا تھا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ تحریک خاص کے چندہ کے متعلق جو میں نے تجویز کی تھی اس کے علاوہ جماعت کی طرف سے ساٹھ ہزار روپے کی رقم جمع کی گئی ہے۔میرا خیال تھا کہ دوستوں نے اس بجٹ کو کافی نہیں سمجھا اور انہوں نے خیال کیا کہ تحریک خاص کے ذریعہ جو رقم اکٹھی ہو گی وہ کم ہے اس لئے مزید ساٹھ ہزار کی رقم جمع کر کے دے دی جائے۔جو مذات میرے ذہن میں تھیں ، میرا خیال تھا کہ وہ خود بخود بڑھتی چلی جائیں گی کیونکہ اس رقم کے ذریعہ ربوہ کے علاوہ بعض بیرونی جگہوں پر بھی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔اگر صرف ربوہ میں انتظام کیا جائے تو شاید اس روپیہ کا پچاسواں حصہ ہی کافی ہو لیکن اصل مقصد تو فتنہ کا سدِ باب کرنا ہے۔پس میرا خیال تھا کہ دوستوں نے میری سکیم کو نا کافی سمجھتے ہوئے خیال کیا کہ ساٹھ ہزار روپے کی مزید رقم جمع کر کے دے دی جائے۔بہر حال اس روپیہ کے جمع ہونے کے بعد مجھے پیغام پہنچا کہ جماعت کے کچھ امراء آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔چونکہ شوریٰ میں سے بعض امراء کا علیحدہ طور پر ملنا خلاف قاعدہ تھا اس لئے میں نے اس ملاقات کو پسند نہ کیا۔ملاقات ایک وقت میں خلاف قاعدہ ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں باقاعدہ ہو جاتی ہے۔جب مجلس شوری بیٹھی ہو تو سارے افراد شوریٰ کا حصہ ہوتے ہیں اس لئے اُس میں سے بعض افراد کا علیحدہ طور پر ملاقات کرنا چاہے وہ امراء ہوں یا عام ممبر خلاف قاعدہ ہوتا ہے لیکن اگر مجلس شوری نہ ہو تو پھر امیر اور غریب کا