خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 40

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء عرصہ میں ایک مضبوط ریز رو فنڈ قائم کر سکیں۔در حقیقت آمد کی زیادتی کے ساتھ ہی ریز روفنڈ کے قیام کا تعلق ہے اور اس کا قائم ہونا بہت ضروری ہے۔ریز روفنڈ میں نے اپنی آخری تقریر کے لئے جو نوٹ لکھے ہوئے ہیں ، اُن میں سے ایک نوٹ یہ بھی ہے کہ جماعت کو جلد سے جلد ایک مضبوط ریز روفنڈ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اصل بات یہ ہے کہ بعض اخراجات ایسے لازمی ہوتے ہیں جو عادتاً ہر سال پورے کرنے پڑتے ہیں۔ایسے اخراجات کے لئے بجائے اس کے کہ ماہوار چندوں پر بوجھ ڈالا جائے ضروری ہے کہ ہم ایک ریز روفنڈ قائم کر دیں جس کی آمد سے یہ اخراجات پورے ہوتے رہیں۔جیسے تعلیمی اخراجات ہیں یا ہسپتال کے اخراجات ہیں اور جو ماہوار چندوں کے ذریعہ آمد ہو وہ تبلیغی اخراجات پر خرچ ہوتی رہے۔یہی طریق ہے جس سے ہم اپنے تبلیغی نظام کو وسیع کر سکتے ہیں اور یہی طریق ہے جو ہماری مالی حالت کو ہمیشہ کے لئے مضبوط بنا سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی کچھ عرصہ ہوا ۲۵ لاکھ ریز روفنڈ قائم کرنے کی جماعت کو تحریک کی تھی مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس طرف بہت ہی کم توجہ کی۔بعض نے کہا تھا کہ ہم اس میں لاکھ لاکھ روپیہ چندہ جمع کر کے دیں گے مگر بعد میں اُنہیں ایک ہزار روپیہ دینا بھی نصیب نہ ہوا۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض اور لوگوں کے دلوں میں یہ نیک تحریک پیدا کر دی کہ وہ لوگوں سے ریزرو فنڈ کے لئے چندہ جمع کریں۔چنانچہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلہ میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے قریب جمع ہو چکا ہے۔اگر ریز رو فنڈ کو بڑھانے کی کوشش کی جائے اور دوسری طرف چندوں میں مستقل اضافہ کی جدوجہد برابر جاری رکھی جائے تو کوئی تعجب نہیں کہ ہم دو لاکھ روپیہ اور ریز رو فنڈ میں جمع کرسکیں۔اور اس طرح چار پانچ سال کے عرصہ میں اتنا روپیہ ہمارے پاس جمع ہو جائے جسے ۲۵ لاکھ ریز روفنڈ کے لئے پہلا قدم قرار دیا جاسکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت نے اس عرصہ میں ایک اور ریز روفنڈ قائم کرنے کی بہت کوشش کی ہے جو تحریک جدید کا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین سال میں جائداد کی صورت میں ۲۵ لاکھ روپیہ کا ریز روفنڈ اس طرح قائم ہو جائے گالیکن صدر انجمن احمدیہ کا ریز رو فنڈ بہت کمزور ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت