خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 532

خطابات شوری جلد سوم ۵۳۲ مشاورت ۱۹۵۲ء لوگوں کی دعوت کر دی یا انہیں میرے پاس لے آئے۔وہ ہنگی تبلیغ نہیں کرتے۔غربا رنگی تبلیغ کرتے ہیں۔اگر سب لوگ تنگی تبلیغ کرتے تو جماعت کہیں کی کہیں چلی جاتی۔مجھے آج ہی ایک دوست کا خط ملا ہے کہ اُنہیں ایک بہت بڑے عالم ملے اور انہوں نے احمدیت سے اتنی ناواقفیت ظاہر کی کہ حیرت آتی ہے۔جب میں نے ان سے گھل کر باتیں کیں تو ان کی آخری گفتگو پہلی گفتگو سے بہت نرم تھی۔پس چاہے کوئی بڑا آدمی ہو جب اس پر حق گھل گیا ہو تو وہ ضرور اس طرف متوجہ ہوگا۔میں جب شام گیا تو وہاں کے ایک عالم شیخ عبدالقادر صاحب مغربی جو ابھی تک زندہ ہیں میرے پاس آئے وہ شریف آدمی ہیں۔مجھے ملنے کے لئے آئے تو کچھ نوجوان جو یو نیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے میرے ساتھ کج بحثی کر رہے تھے۔شیخ عبد القادر صاحب مغربی اُن سے لڑ پڑے اور کہا ہمارا طرہ امتیاز تو مہمان نوازی ہے تمہیں ان کی باتیں سن لینی چاہئیں کج بحثی نہیں کرنی چاہئے۔پھر انہوں نے مجھ سے معافی مانگی۔وہ بہت بڑے عالم ہیں اور عربی سوسائٹی کے سرکردہ ممبر ہیں، اس سوسائٹی کے وہ صدر ہیں یا نا ئب صدر ہیں ، وہ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ہم عرب ہیں۔بیوقوف یا جاہل نہیں کہ آپ کی بات مان لیں۔اُس وقت میں نے اُنہیں کہا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی اچھا عرب احمدیت میں داخل نہیں ہو سکتا۔میں تو اب واپس جا رہا ہوں لیکن وطن پہنچ کر سب سے پہلا کام جو میں کروں گا وہ یہ ہے کہ میں یہاں اپنا مبلغ بھیجوں اور اُس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک کہ یہاں ایک مخلص جماعت قائم نہ ہو جائے۔چنانچہ میں نے یہاں آکر سید ولی اللہ شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو شام میں بھیجا اور کہا جاؤ اور شیخ عبد القادر صاحب مغربی سے کہہ دو کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔جب یہ دونوں وہاں گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک مخلص جماعت بھی قائم کر دی اور جب شیخ عبدالقادر صاحب مغربی سے ملے اور انہیں کہا کہ خلیفہ اسیح نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے تو انہوں نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا تم نے واقعہ میں اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔اسی مجلس میں مسٹر سلیم حسن جابی نے تلاوت کی ہے۔یہ شام کے رہنے والے ہیں یہ وہاں سے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے نہ صرف انہیں احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے بلکہ انہیں یہ توفیق بھی دی ہے کہ وہ یہاں آکر دینی تعا۔