خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 489
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۹ مشاورت ۱۹۵۲ء سال سے ہماری جماعتیں قائم ہیں مگر ان میں کوئی گریجویٹ نہیں۔اگر محکمہ کی طرف سے ان کو تحریک کی جائے کہ پندرہ ہیں زمیندار مل کر ایک لڑکے کی اعلیٰ تعلیم کا بوجھ اُٹھا ئیں اور اسے قرضہ کے طور پر ماہوار کچھ وظیفے دے دیا کریں تو چند سالوں میں ہی کئی لڑکے گریجویٹ بن سکتے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ زمینداروں کی ذہنیت ایسی ہوتی ہے کہ ان میں سے بہتوں نے اس کو ماننا نہیں لیکن بہر حال جب کوئی تحریک کی جائے تو کچھ نہ کچھ لوگ اس میں حصہ لینے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔پھر ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور رفتہ رفتہ کئی گریجویٹ تیار ہو جائیں گے مگر اس کے متعلق بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔معلم پیدا کرنا بھی ہمارے محکمہ کا کام ہے مگر یہ کام بھی ہمارے محکمہ نے نہیں کیا۔میں نام نہیں لیتا تعلیم کے ایک بڑے افسر نے جسے احمدیت سے اُنس ہے ہمارے ایک دوست سے کہا کہ اگر آپ لوگ مجھے گریجویٹ مہیا کریں تو میں ان سب کو فلاں علاقہ میں پھیلانے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ اُس نے محکمہ کو اس بارہ میں چٹھی بھی لکھی مگر اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔اور وہ جواب دے بھی کیا سکتے تھے جبکہ آدمی ان کے پاس ہی نہیں۔غیر ممالک سے بھی برابر اس قسم کی مانگیں آتی رہتی ہیں۔افریقہ میں ہم نے ایک کالج قائم کیا ہوا ہے اور وہ نہایت اچھا کام کر رہا ہے اب ایک اور مقام پر کالج کھولنے پر اصرار کیا جا رہا ہے مگر ہمارے پاس اساتذہ نہیں ہیں۔اسی طرح مشرقی افریقہ کی طرف سے بار بار مطالبہ ہو رہا ہے کہ مدرس بھجواؤ۔وہاں تنخواہیں بھی زیادہ ملتی ہیں اور پھر وہ علاقہ اس جگہ سے سستا بھی ہے۔اسی طرح وہاں درزیوں اور لوہاروں کی سخت ضرورت رہتی ہے۔اگر ہماری جماعت میں اس قسم کے پیشہ ور کافی تعداد میں ہوں تو سینکڑوں آدمی وہاں کھپائے جا سکتے ہیں۔ایک آدمی چار پانچ سو شلنگ وہاں آسانی سے کما سکتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر ہم سو آدمی بھی بھجوا دیں تو ان کے ذریعہ ہمارے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے مگر تمیں سال سے اس بارہ میں کوشش نہیں کی گئی اور نہ محکمہ نے اس طرف کبھی توجہ کی ہے کہ وہ سلسلہ کی ضرورتوں کے مطابق مختلف فنون ، زبانوں اور کاموں کی تعلیم دلوائے۔محکمہ تصنیف واشاعت کا کام پھر تصنیف واشاعت کا محکمہ ہے۔یہ کام نیا شروع ہوگا ہے لیکن ایک حد تک اس کی اُٹھان بہت مبارک ہے۔