خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 475
خطابات شوری جلد سوم ۴۷۵ مشاورت ۱۹۵۲ء لٹریچر ہی پڑھتے رہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوں جو وفات مسیح وغیرہ کے متعلق نئے دلائل کی جستجو میں مشغول رہنے والے ہوں۔اب تو اس مسئلہ پر کچھ لکھتے ہوئے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ یہ مضمون پامال ہو چکا ہے لیکن بعض دفعہ کوئی نیا نکتہ بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔بعض دفعہ کوئی نیا اعتراض آ جاتا ہے۔جس کے متعلق انسان سمجھ لیتا ہے کہ اس کا حل ہونا ضروری ہے۔یہ لائبریرین کا کام ہے کہ وہ بتائے کہ فلاں فلاں مسائل پر ہمارے علماء نے روشنی نہیں ڈالی یا ان کو ان ان کتابوں سے مددمل سکتی ہے۔گویا لائبریری ایک آرڈی ننس ڈپو یا سپلائی ڈپو ہے جو مبلغین اور علمائے سلسلہ کی مدد کے لئے ضروری ہے۔یہ کام بہت بڑا ہے میں جب حساب لگا تا ہوں تو میرا اندازہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ہمارے پاس ایک لاکھ کتاب ہو تو ہمارے پاس پچاس آدمی ماہر لائبریرین ہونا چاہئے۔جن میں سے کچھ نئی کتابوں کے پڑھنے میں لگا رہے۔کچھ پرانی کتابوں کے خلاصے تیار کرنے میں لگا رہے، کچھ ایسے ہوں جو طلباء کے لئے نئی نئی کتابوں کے ضروری مضامین الگ کرتے چلے جائیں تاکہ وہ تھوڑے سے وقت میں ان پر نظر ڈال کر اپنے علم کو بڑھا سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ طالب علموں کو جو سکولوں اور کالجوں میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اُن سے دُنیا میں وہ کوئی مفید کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہ صرف ابتدائی کتابیں ہوتی ہیں مگر پھر بھی کسی کالج اور سکول سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہر طالب علم کو لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کتاب پڑھا دے۔یہ لائبریرین کا کام ہوتا ہے کہ وہ ایسے خلاصے نکال کر رکھیں کہ جن پر طلباء کا نظر ڈالنا ضروری ہو اور جن سے تھوڑے وقت میں ہی وہ زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہوں۔ہمیں تو حضرت خلیفہ اول نے اس طرح علم کی چاٹ لگائی کہ ایک کتاب کے چار پانچ نسخے منگوا لینا اور فرمانا میاں! یہ کتاب بڑی اچھی ہے ضرور لو اور مطالعہ کرو۔چنانچہ اسی ابتدائی زمانہ میں تھیں چالیس اچھی اچھی کتابیں میرے پاس جمع ہو گئی تھیں۔ان میں سے بعض تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے تحفہ کے طور پر دی تھیں اور بعض میں نے خود خریدی تھیں اس طرح میرا علم بڑھتا چلا جا تا تھا مگر اب یہ حالت ہے کہ مولوی شاید اپنے آپ کو بد قسمت سمجھے گا اگر وہ کوئی کتاب خرید لے حالانکہ کتاب ہی سب سے زیادہ اُس کے کام آنے والی چیز ہوتی ہے۔مجھے خوب یاد ہے حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ دُنیا کی ہر چیز مولوی خرید لے گا