خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 467

خطابات شوری جلد سوم ۴۶۷ مشاورت ۱۹۵۲ء 66 زیادہ ہو گی مگر آدمی ایسے آنے چاہئیں جو ہمیں زیادہ سے زیادہ مدد دے سکیں۔“ افتتاحی تقریر اس کے بعد حضور کی ہدایات کے مطابق سب کمیٹیوں کا تقرر عمل میں آیا۔ہوئے فرمایا: - پھر حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد نمائندگان سے خطاب کرتے کمیٹیاں ان امور پر غور کرنے کے لئے جو کہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں مقرر ہو گئی ہیں اور اس اجلاس کے بعد جیسا کہ ان کے صدر اور سیکرٹری اعلان کریں گے کسی جگہ پر جمع ہو کر وہ ان تجاویز پر غور کریں گی جو ان کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔میں سابق دستور کے خلاف اس دفعہ چاہتا ہوں کہ کمیٹیوں کے اجلاس سے بعض باتیں بیان کر دوں جو کمیٹیوں کی ہدایات کے لئے ہوں گی بعض باتیں تو وقتی ہیں لیکن اکثر باتیں وہ ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم ان پر غور کریں اور ان کے مطابق سکیم بنائیں اور ایسی باتوں کے متعلق کمیٹیوں کے بیٹھنے سے پہلے ہی توجہ دلانا ضروری ہوتا ہے تا کہ کمیٹیاں ان پر غور کر کے آئندہ کے متعلق سکیم بنالیں۔بجٹ کی بعض مدات کے متعلق ہدایات سب سے پہلے تو میں اس حصہ کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جو بجٹ میں خلافت بجٹ کے طور پر پچھلے سال رکھا گیا تھا۔غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ بجائے خلافت کے بجٹ کے نیچے ان کا نام رکھنے کے انہیں پرائیویٹ سیکرٹری کے بجٹ کے نیچے رکھنا چاہئے۔وہ کام بھی پرائیویٹ سیکرٹری کا ہی ہے اور گو وہ خلیفہ وقت کی ہدایات کے ماتحت ہی کام کرے گا لیکن عنوان کے لحاظ سے اس چیز کو اُس کے بجٹ کے نیچے چلا جانا چاہئے تا کہ نگرانی بھی رہے اور حساب کتاب بھی رکھا جا سکے۔ان میں سے پہلی چیز میرے نزدیک موٹر ہے۔موٹر کو میرے نزدیک خلافت کے بجٹ میں سے نکال کر سیکرٹری کے بجٹ میں رکھ دینا چاہئے کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا حساب ہونا چاہئے اور ہوتا ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے نیچے اس کو نہ رکھا جائے۔اسی طرح چار مدات میں سے ایک مدایسی ہے جس کے متعلق میں چاہتا ہوں کہ اسے اڑا دوں۔کسی انہی مصلحت کے ماتحت وہ گزشتہ سال رکھی گئی تھی مگر میں سمجھتا ہوں اب وہ