خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 445

خطابات شوری جلد سوم ۴۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اسی طرح ہم نے سکول بنانا ہے، کالج بنانا ہے، مہمان خانہ بنانا ہے ورنہ مہمان یہاں آکر کہاں ٹھہریں گے یہ تفصیلات صرف تعمیر کا لفظ لکھ دینے سے سمجھ نہیں آسکتیں۔اس کے لئے ضروری تھا کہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے عمارتوں کی لسٹ پیش کی جاتی۔اب انجمن کو چاہیے کہ وہ اس پر غور کر کے ایک فہرست مرتب کرے تا کہ اُس کو مدنظر رکھ کر کام کیا جائے۔اسی طرح ناظر ہیں اُن کے لئے مکانوں کی ضرورت ہوگی قادیان میں تو ان کے اپنے مکان تھے مگر یہاں ان کے پاس روپیہ نہیں کہ مکان بناسکیں پھر کلرک ہیں اُن سے ہم کس طرح اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ مکان بنالیں گے۔اس کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ آپ انہیں مکان بنا کر دیں جس میں وہ رہائش اختیار کریں اور سلسلہ کی خدمات سرانجام دیں۔دس پندرہ سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ وہ اپنے مکان بنالیں گے یا اگر اس عرصہ تک ہم قادیان چلے گئے تو یہ مکان کرایہ پر چڑھ جائیں گے۔بہر حال ہم عقل کام لیں گے تبھی ان مشکلات پر قابو پایا جا سکے گا۔اس وقت نہ کلرکوں کے پاس مکان ہے جاسکے نہ ناظروں کے پاس مکان ہے نہ خلیفہ کے پاس مکان ہے نہ خلیفہ کی بیویوں کے پاس مکان۔اپنے بچوں کے مکانات کے لئے تو میں نے کچھ روپوں کا انتظام کر لیا ہے مگر میرے خاندان کے افرا د ساٹھ سے بھی زیادہ ہیں اور بہر حال مجھے اور میری بیویوں اور میرے خاندان کے دوسرے افراد کو اُسی مکان میں رہنا پڑے گا جو خلیفہ کے لئے بنایا جائیگا۔اسی طرح ناظروں کے پاس کون سا روپیہ ہے جس سے وہ مکان بنالیں گے۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر پندرہ بیس لاکھ روپیہ صرف ہو گا۔پھر علاوہ ان مکانات کے ہم نے ہسپتال بنانا ہے، زنانہ سکول بنانا ہے، مردانہ سکول بنانا ہے، کالج بنانا ہے اور اسی طرح اور کئی مرکزی عمارتیں بنانی ہیں۔میرے نزدیک ہمیں فوری طوری پر جن عمارات کی ضرورت ہے وہ یہ ہیں :- 1- دارایح دار المسیح 2۔قصر خلافت۔3 حضرت خلیفۃ امسح الاول اور بعض پرانے صحابہ کے مکانات 4- لنگر خانه 5 مہمان خانہ