خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 430

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ماں کا اپنے بچہ کو 9 ماہ تک پیٹ میں رکھنا ، دو سال تک دودھ پلانا، اُس کے لئے راتوں کو جاگنا، اُسے کپڑے مہیا کرنا ، خود بھوکے رہ کر اُسے تعلیم دلانا اور خود تکلیف اٹھا کر اُس کی شادی کرنا یہ بے شک بہت بڑی قربانی ہے لیکن یہ قربانی اُس کے بدلہ کے مقابل میں بالکل بیچ ہے جو خدا تعالیٰ اُس کے نتیجہ میں اُسے دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے جو شخص ماں باپ کی نافرمانی کرتا ہے وہ میرا نا فرمان ہے۔پس تمہاری قربانی بے شک بہت بڑی ہے لیکن جو نتیجہ اس کا خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے اس کے سامنے یہ قربانی کوئی حیثیت نہیں رکھتی امریکہ ، برطانیہ ، سپین، فرانس، اٹلی ، ہالینڈ اور دوسرے یورپین ممالک جو اپنی برتری کے دعوے دار ہیں جو تمہیں غلام کہنے میں بھی اپنی ہتک سمجھتے ہیں تمہاری اس قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کہے گا اے ملکو! تم اس ملک کے غلام بن کر رہو۔تمہاری قربانی بے شک بہت بڑی ہے لیکن خدا تعالیٰ کا جواب اُس سے بھی بہت بڑا ہے۔بے شک اس برکت کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے دوسرے ملکوں کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے لیکن امریکہ کا ایک باشندہ تبھی برکت پاسکتا ہے جب وہ یہاں آکر بس جائے گویا وہ اپنی وطنیت کو ترک کر کے ہی برکت حاصل کر سکتا ہے۔اُسے بہر حال اپنی بنیا د توڑنی پڑے گی تبھی وہ اس ملک کے حقوق برتری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ایک خاص وطنیت برادری اور جگہ معین ہو چکی ہے اُس میں داخل ہو کر وہ برکت سے حصہ لے لے گا لیکن جب وہ اس وطنیت برادری اور جگہ سے باہر جائے گا تو وہ اس ملک کے تابع ہو کر رہے گا۔جب تک تم ماں کی حیثیت کو قائم رکھو گے دوسرے ملک بھی بچہ کی حیثیت کو قائم رکھیں گے لیکن جب تم ماں کی حیثیت کو قائم نہیں رکھو گے تو دوسرے ممالک سے تم ماں والی عزت کی امید نہیں کر سکتے۔جس طرح ماں جب بچہ کو پھینک دے تو کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ بچہ نے اپنی ماں کے حقوق کو ادا نہیں کیا وہ یہی کہیں گے کہ ماں نے خود اپنے حقوق کو چھوڑ دیا ہے اس لئے بچہ نے بھی اُن حقوق کو ادا نہیں کیا جو اُس پر عائد ہوتے تھے۔تورات میں آتا ہے کہ حضرت اسحق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسو نے اپنا حق اپنے چھوٹے بھائی یعقوب علیہ السلام کے لئے چھوڑ دیا تھا۔پرانے زمانہ میں بڑے بیٹے کو حقوق برتری حاصل ہوتے تھے۔یہود کا یہ خیال تھا کہ بڑا بیٹا ہی نبی بن سکتا ہے۔