خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 429

خطابات شوری جلد سوم ۴۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پشاور کا رہنے والا نہیں۔جس طرح ربوہ کا کوئی شخص سودا لینے کے لئے لائل پور یا لاہور جائے تو وہ وہاں کا نہیں ہو جاتا اسی طرح مرکز کے کسی دوسری جگہ عارضی طور پر چلے جانے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اب پہلی جگہ مستقل مرکز نہیں رہا۔جیسے مسافر اپنے وطن کی طرف ہی منسوب ہوتا ہے۔اسی طرح مستقل مرکز سے نکلنے والا بھی اُسی کی طرف منسوب ہوگا۔جب یہ فضیلت خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہے تو پھر مرکز والوں کو خرچ کرنا پڑے گا۔دنیا میں صرف مائیں ہی خرچ کرتی ہیں اور وہ دودھ پلاتی ہیں۔بڑی عمر میں بھی درحقیقت مائیں ہی خرچ کرتی ہیں۔سو میں سے دو تین ہی ایسے بچے نکلیں گے جو ماں باپ کی خدمت کرتے ہیں ورنہ اکثر ماں باپ ہی اپنے بچوں کی ساری عمر خدمت ہے کرتے ہیں۔اُم القریٰ وہ بستی ہوتی ہے جس میں خدا تعالیٰ کا مامور آتا ہے اور اُم القریٰ ہوتا۔وہ ملک جس میں خدا تعالیٰ کا مامور آتا ہے۔سکول کے طالب علم کو وظیفے دیتے وقت گورنمنٹ اُس سے شرطیں طے کرتی ہے اور اس سے اشٹام لکھواتی ہے کہ وہ اس وظیفے کو واپس کرے گا یا تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اُس کی ملازمت کرے گا لیکن مائیں خرچ کرتی ہیں اور اولاد سے کسی بدلہ کی خواہش نہیں رکھتیں۔ماں بچہ کی اُس وقت خدمت کرتی ہے جب وہ بول بھی نہیں سکتا لیکن اس کے بدلہ میں اُسے کیا ملتا ہے؟ خدا تعالیٰ نے اسے یہ فضیلت دی ہے کہ اولاد کے ذمہ خدا تعالیٰ نے یہ فرض رکھا ہے کہ وہ سوائے شرک کے ہر بات میں اپنے ماں باپ کی اطاعت کریں۔یہی درجہ مرکزی مقام کو بھی حاصل ہوتا ہے اور دوسرے ممالک کو خدا تعالیٰ اس کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔جیسے ماں کی اطاعت نہ کرنے والے گنہگار ہوتے ہیں اسی طرح اگر دوسرے ملک مرکزی مقام کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نافرمان گردانے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مستوجب بنتے ہیں پس اپنی اس ذمہ داری کو سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں ماں بنایا ہے لیکن تم ماں والے حق کے اُسی وقت مستحق ہو سکتے ہو جب تم ماں والی قربانی بھی کرو - محسن ہمیشہ احسان مندوں کے لئے کعبہ بن جاتا ہے اور یہ کوئی معمولی عزت نہیں۔تم جتنی قربانی بھی کرو وہ اُس نتیجہ کے مقابلہ میں کم ہے جو خدا تعالیٰ اُس کے بدلہ میں پیدا کرتا ہے۔