خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 356

خطابات شوری جلد سوم ۳۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء جب قادیان کی حفاظت کا سوال پیدا ہوا تو اُس وقت میں نے دوستوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی جائیدادوں کی قیمت کا ایک فیصدی یا ایک مہینہ کی آمد اس غرض کے لئے دے دیں میرے اس مطالبہ پر ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کے وعدے آ گئے حالانکہ ابھی کئی جماعتیں ایسی تھیں جنہوں نے کوئی وعدہ نہیں بھیجوایا تھا اِس ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ میں سے سات لاکھ کے قریب وصولی ہوگئی جو قریباً سب کا سب خرچ ہو چکا ہے اب صرف آٹھ نو ہزار روپیہ اس مد میں باقی ہے لیکن اس کام پر جیسا کہ میں نے خطبہ میں بھی بیان کیا ہے پندرہ سولہ ہزار روپیہ ماہوار خرچ آ رہا ہے اگر ہم یہ روپیہ خرچ نہ کریں تو قادیان کی حفاظت کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے۔اگر وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک چندے ادا نہیں کئے ادا کر دیں تو ایک دو سال تک ہمارا گزارہ ہو جائے گا اور کسی نئی تحریک کی ضرورت پیدا نہیں ہوگی اوّل تو ایک دو سال تک اس قسم کی سہولتیں انشاء اللہ پیدا ہو جائیں گی کہ ہمارا خرچ کم ہو جائے گا اور اُتنا نہیں رہے گا جتنا اس وقت ہے دوسرے ہندوستان کی جماعتوں کی جو تنظیم ہم کر رہے ہیں اُس کے نتیجہ میں بھی وہاں کی جماتیں بہت سا بوجھ اُٹھا لیں گی مگر جب تک وہ وقت نہ آئے ایک بھاری رقم اس غرض کے لئے ہمیں ریزرو رکھنی چاہئے۔میں نے گزشتہ ایام میں نظارت بیت المال کو توجہ دلائی تھی کہ وہ مختلف اضلاع کی لسٹیں تیار کر کے میرے سامنے پیش کرے تاکہ پتہ لگے کہ کون کون سی جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے حفاظت مرکز کا چندہ نہیں دیا یا بہت ہی کم دیا ہے۔اُن لسٹوں کو دیکھنے پر میرے لئے یہ بات نہایت حیرت انگیز بلکہ آنکھیں کھولنے والی ثابت ہوئی کہ بعض اضلاع کی جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے اُس خطرناک مصیبت اور تباہی کی گھڑیوں میں بھی جبکہ چھپن لاکھ آدمی مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب اور مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب گیا۔جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ احمدی اپنی جائیدادیں چھوڑ کر آ گیا جب کہ قادیان کے محلوں میں خون بہہ رہا تھا اور جبکہ ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں اگر کوئی احمدی جاتا تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا اس خطرناک مصیبت اور تباہی کے وقت میں بھی صرف دس فیصدی وعدہ پورا کیا ہے توے فیصدی بقایا ابھی اُن کے ذمہ ہے۔میں اپنی اُس محبت اور چشم پوشی کو جو باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ہوتی