خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 355

خطابات شوری جلد سوم ۳۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء شوری کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس سال کے مخصوص حالات کے ماتحت مجلس شوریٰ جلسہ سالانہ کے ایام میں ہی منعقد کی جا رہی ہے اس وجہ سے شوری کے لئے کافی وقت نہیں نکالا جا سکتا پھر اس لئے بھی شوری کی کارروائی کو مختصر کرنے کی ضرورت ہے کہ لمبا وقت صرف کرنا کام کرنے والوں پر اتنا بوجھ ڈال دے گا کہ مہمانوں کے لئے کھانا تیار کرنے اور اسی طرح دوسرے کام سرانجام دینے کے لئے وہ وقت نہیں نکال سکیں گے اس لئے اس سال ان ضرورتوں کے ماتحت مختصر سے مختصر وقت میں کارروائی ختم کر دی جائے گی۔قادیان کی حفاظت کیلئے رقم ریز رور کھنے کی ضرورت ہمارا بجٹ مدتوں سے بنتا چلا آ رہا ہے اور اس لحاظ سے موجودہ سال کے بجٹ میں کوئی خصوصیت نہیں وہی چیزیں ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں خصوصیت اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب آمد بڑھ جائے اور نئے محکمے بنانے پڑیں مگر ایک عرصہ سے نئے محکمے نہیں بنائے جا رہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم نئے محکمے بنا ئیں مگر اس کا یہ موقع نہیں ابھی ضرورت ہے کہ ہم اُس بڑے صدمے سے آزاد ہونے کی کوشش کریں جو قادیان چھوڑنے کی وجہ سے ہمیں پہنچا ہے قادیان چھوڑنے کی وجہ سے سلسلہ کی بہت سے جائیدادیں ضائع ہو گئیں اسی طرح لاکھوں ا لاکھ روپیہ جو رہن شدہ مکانوں پر لگا ہوا تھا وہ بھی ختم ہو گیا پھر کام چلانے کے لئے جن مکانات کی ضرورت تھی وہ بھی نہ رہے اب ربوہ میں ہم نے پھر اپنی ترقی کے لئے ایک متحدہ کوشش کرنی ہے اور سلسلہ کے لئے عمارتیں وغیرہ بنانی ہیں جن پر دس بارہ لاکھ روپیہ صرف ہو جائے گا پھر قادیان کی حفاظت کا کام بھی مستقل طور پر جاری ہے اور اس کے متعلق ہم اپنی جدو جہد اور کوششوں کو ڈھیلا نہیں کر سکتے۔میں نے گزشتہ ایام میں ایک خطبہ اِس موضوع پر دیا ہے اور میں نے نظارت بیت المال کو توجہ دلائی تھی کہ اسے چھاپ کر تمام جماعتوں میں بھیجوا دیا جائے مگر غالباً ابھی تک اسے علیحدہ شائع نہیں کیا گیا یہ اس قسم کا جذباتی سوال ہے کہ میرے نزدیک بعض حقیقی ضرورتوں سے بھی اسے مقدم سمجھنا چاہیئے۔