خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 335
خطابات شوری جلد سوم ۳۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ان میں سے اکثر وہ ریسرچ کے لئے لے جاتے ہیں۔اگر ناصر احمد میں بھی وہی جذ بہ ہوتا تو وہ تحریک کو کہتا کہ مجھے بھی اتنے نوجوان دئے جائیں۔میں ان کو کالج کے لئے تیار کرنا چاہتا ہوں گزشتہ چار سال میں ڈاکٹر عبدالاحد صاحب پانچ سات نئے نوجوان تیار کر چکے ہیں۔مگر اتنے سالوں میں ناصر احمد نے ایک نوجوان بھی تیار نہیں کیا جتنے تیار کئے ہیں میں نے کئے ہیں در حقیقت اس کے معنی یہ ہیں کہ اسے اپنے کام سے اس قسم کا Interest نہیں۔جو والنزعت غرقا و التشطت نَشَطاً ت کے مطابق ہر مومن کو ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عبدالاحد صاحب جب نئے آدمی مانگنے آتے ہیں تو میں بعض دفعہ چڑاتا بھی ہوں مگر پھر بھی وہ اپنی ضرورت کے مطابق آدمی لے ہی جاتے ہیں۔ناصر احمد کو بھی کہنا چاہیے تھا کہ مجھے اس اس قسم کے پروفیسر چاہیں اور اگر تحریک اس سے تعاون نہ کرتی تو وہ مجھ سے کہتا ، بہر حال میرے نزدیک اُس نے اپنے فن سے اتنا شغف نہیں دکھایا جتنا اُسے دکھانا چاہیے تھا بلکہ اُس کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ ہر فن کے پروفیسروں کا تحریک سے مطالبہ کرتا آخر جتنے مضامین دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں وہ سارے کے سارے ہم نے بھی پڑھانے ہیں پس جس مضمون کا پروفیسر اُن کے پاس نہیں تھا اُسے تحریک سے مانگنا چاہیے تھا بلکہ یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ ہمارے لئے جرمن زبان کا بھی پروفیسر تیار کیا جائے روسی زبان کا بھی پروفیسر تیار کیا جائے اطالین زبان کا بھی پروفیسر تیار کیا جائے اور آہستہ آہستہ تحریک اس کام میں لگی رہتی۔“ انسپکڑوں کی تعداد کم سے کم ہو بعض دوستوں نے تحریک کی تھی کہ جماعت کی تربیت کے لئے انسپکٹروں کی تعداد کو بڑھا دیا جائے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- میں نے کئی دفعہ اس بات پر غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ پالیسی غلط ہے، اس لئے نہیں کہ نگران مقرر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس لئے کہ ایک ایسے کام میں جس کے انواع بہت سے ہیں انفرادی طور پر نگرانی کرنی چاہیے نہ کہ ہر شعبہ کی نگرانی کے لئے الگ الگ انسپکٹر مقرر کرنا چاہیے مثلاً تربیت کے انسپکٹر ہی لے لو پہلے نمازوں کے لئے انسپکڑوں کی ضرورت ہوگی پھر روزوں کے لئے انسپکٹروں کی ضرورت ہو گی پھر زکوۃ کے لئے انسپکٹروں کی ضرورت ہوگی پھر حج کے لئے انسپکٹروں کی ضرورت ہوگی پھر تجارت اور لین دین سے تعلق