خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 330

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کم نہیں مگر خرچ وہ چند روپے کرتے تھے یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے میں سندھ گیا وہاں میری بھی زمین ہے اور انجمن کی بھی زمینیں ہیں میں نے سندھی مزارعوں کو بلا کر نصیحت کی کہ یہ میرا ذاتی کام نہیں میں خود سلسلہ کا خادم ہوں یہ خدا کا مال ہے اور صرف تبلیغ اسلام پر خرچ ہوتا ہے اس لئے اس مال میں کسی قسم کی بد دیانتی جائز نہیں وہ میری باتیں سن سن کر سر مارتے اور سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللہ کہتے اس کے بعد میں نے کہا میں نے سنا ہے تم اپنے جانور فصلوں میں چھوڑ دیتے ہو اور پھر اس طرح فصلوں کا بہت کچھ نقصان ہو جاتا ہے وہ پہلے تو سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہہ رہے تھے مگر جب میں نے یہ بات کی تو وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے گو میں زمینوں کا مالک نہیں تھا مگر انجمن کے مال کا محافظ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے ہی مالک سمجھتے تھے اور مالک کو سندھی لوگ دھنی کہتے ہیں جب میں نے یہ نصیحت کی تو وہ حیرت سے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے دھنی جے مال ڈنگر نے نہیں کھانی تے بنی پوکھنی کیوں ؟ یعنی اگر جانور کھیت میں نہ پھریں تو پھر کھیتی کرنے کا فائدہ ہی کیا۔غرض زمیندار کی یہ عام ذہنیت ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے نہیں کھانا تو پھر کھیتی باڑی کرنے کا فائدہ کیا ہے لیکن مومن اس لئے کھیتی باڑی کرتا ہے کہ وہ خدا کے دین کے لئے خرچ ہو اُس کا جنوں اس میں نہیں ہوتا کہ وہ کھیتی باڑی نہیں کرتا ، اس کا جنوں اس میں نہیں ہوتا کہ وہ تجارت نہیں کرتا، اس کا جنوں اس میں نہیں ہوتا کہ وہ صنعت و حرفت نہیں کرتا بلکہ اُس کا جنون اس میں ہوتا ہے کہ دنیا دار آدمی تو اس لئے تجارت کرتا یا صنعت و حرفت میں حصہ لیتا ہے کہ وہ آپ کھائے یا بیوی بچوں کو کھلائے مگر مومن ان کاموں میں اس لئے حصہ نہیں لیتا کہ وہ آپ کھائے یا اپنے بیوی بچوں کو کھلائے بلکہ وہ اس لئے حصہ لیتا ہے کہ خدا کو دے۔پس میں تمہیں کام کرنے سے نہیں روکتا بلکہ میرے فرائض کا یہ حصہ ہے کہ میں تمہیں کہوں کہ تم کام کرو، میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم کام اپنے لئے نہیں بلکہ خدا کے لئے کرو۔تم کماؤ اور خوب کماؤ۔محنت کرو اور خوب کر و صنعت و حرفت کرو تو ایسی کرو کہ کوئی شخص تمہارے مقابلہ میں صنعت و حرفت نہ کر سکے۔ملازمتیں کرو تو چوٹی کی ملازمتیں کرو۔مگر کماؤ اس لئے کہ خدا کے راستہ میں خرچ کرو۔بناؤ اس لئے کہ خدا کے راستہ میں خرچ کرو۔خریدو اس لئے کہ خدا کے راستہ میں خرچ کرو۔بیچو اس لئے کہ خدا کے راستہ میں خرچ کرو۔تمہارا جنون تمہارے عدم عمل میں نہ ہو