خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 329

خطابات شوری جلد سوم ۳۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء خلفاء اور ناظروں کو دنیوی امراء کے سامنے سفارش کے لئے پیش کیا جائے ، دوستانہ تعلقات ہونا اور بات ہے اور سفارش کرنا بالکل اور بات ہے۔پھر بعض لوگ تو اصرار کرتے ہیں کہ آپ ظفر اللہ خان سے کہیں ظفر اللہ خان فلاں وزیر سے کہے وزیر اپنے سیکرٹری سے کہے سیکرٹری ڈائر یکٹر سے کہے ڈائریکٹر انسپکٹر سے کہے انسپکٹر سب انسپکٹر سے کہے سب انسپکٹر ہیڈ ماسٹر سے کہے اور ہیڈ ماسٹر فلاں چپڑاسی سے کہے کہ میرا فلاں کام کروا دو۔حیرت آتی ہے کہ اُن کا دماغ کچھ بھی باقی رہ گیا ہے یا نہیں یہ سب مشرکانہ باتیں ہیں۔نے کامیابی کے لئے ایک قسم کی دیوانگی کی ضرورت ہے میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ تم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک تمہارے عقائد کی توحید پر بنیاد نہ ہو ہم نے تو آج تک نہیں دیکھا کہ قومی آفات کے وقت عقل مند لوگ کامیاب ہوئے ہوں ہم نے تو ہمیشہ دیوانوں کو ہی کام کرتے دیکھا ہے۔مصلحتیں سوچنا عقل مندوں کا کام ہے۔ہمیں خدا نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم دیوانہ بنیں اور دین کا کام کریں۔تین صدیاں خدا نے عقل مندوں کو دیں مگر وہ دین کے قائم کرنے میں ناکام رہے اب وہ دیوانوں سے یہ کام لینا چاہتا ہے۔اگر تم بھی اپنی عقلیں سنبھال کر رکھنا چاہتے ہو تو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو پچھلی تین صدیوں میں عقلمند کہلانے والوں کا ہوگا کامیاب وہی ہوں گے جو دیوانہ بنیں گے عیسی آئے تو لوگوں نے اُن کو پاگل کہا موسیٰ آئے تو لوگوں نے اُن کو پاگل کہا نوح آئے تو لوگوں نے اُن کو پاگل کہا قرآن اس ذکر سے بھرا ہوا ہے پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آدم سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تو پاگلوں نے کام کیا ہے اور اب عقلمند یہ کام کر لیں جب تک تم دنیا کی نگاہ میں پاگل نہیں بن جاتے جب تک تم مجنوؤں کی طرح یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ ہم نے کام کرنا ہے چاہے ہمارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اُس وقت تک تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تم بے شک سائنس پڑھو تم بے شک تجارت کرو مگر یہ ساری باتیں خدا تعالیٰ کے دیوانے بن کر کرو۔ابو بکر تاجر تھے عمر بھی تاجر تھے عثمان بھی تاجر تھے علی بھی ایک حد تک تاجر تھے عبدالرحمن بن عوف تو بہت بڑے تاجر تھے وہ فوت ہو گئے تو ان کی اڑھائی کروڑ روپیہ کی جائداد ثابت ہوئی اور اڑھائی کروڑ کی ملکیت کے معنی اس زمانہ کے ایک ارب روپیہ سے