خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 323

خطابات شوری جلد سوم ۳۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء قربانی کرو کیا معنی رکھتا ہے جب واقعہ یہ ہو کہ اپنے اندر قربانی کرنے کی روح ہی نہ پائی جاتی ہو چھ مہینے گزر گئے لاہور کی جماعت ابھی تک اپنے چندہ کی فہرست ہی صحیح طور پر مرتب نہیں کرسکی ، اختر صاحب ہی بتائیں کہ لاہور میں کتنے لوگ ہیں جو ۲۵ سے ۵۰ فیصد تک چندہ دے رہے ہیں؟ لیکن ایک شخص جب وعدہ کرنے کے لئے اس کا اظہار کرتا ہے تو یہ ایک عیب بن جاتا ہے اور خیال گزرتا ہے کہ شاید وہ لوگوں کے سامنے اپنی قربانی پیش کرنا چاہتا ہے اور اُس کی خواہش ہے کہ لوگوں کے سامنے اُس کا نام آجائے اس کے مقابلہ میں کراچی کی جماعت کا نمونہ ہے جو دتی کی بھاگی ہوئی جماعت ہے مگر اُن میں درجنوں ایسے آدمی ہیں جنہوں نے ۲۵ سے ۵۰ فیصدی تک چندے دینے کا وعدہ کیا ہے۔جب تک ہم عملی طور پر اپنی زندگی میں تغیر پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں محض باتیں کرنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جماعت میں عملی طور پر مجھے کوئی تغیر نظر نہیں آتا اس لئے میں اس فکر اور سوچ میں ہوں کہ کوئی ایسا طریق جاری کرنا چاہیے جس سے ان لوگوں کی اصلاح ہو اور یا پھر ان لوگوں کو سلسلہ میں سے نکال دینا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب لوگوں۔سے بیعت لینی شروع کی تو اُس وقت صرف بارہ تیرہ آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر پھر بھی یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا گیا۔پس ہمیں ضرورت کیا ہے کہ ہم اُن لوگوں کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اگر وہ الگ ہو جائیں گے تب بھی ہمارے سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔یہ خدائی سلسلہ ہے انسانوں کا تیار کردہ نہیں میں رات اور دن اس مسئلہ کو سوچتا رہتا ہوں مگر ابھی تک خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس بارہ میں کوئی راہ نمائی حاصل نہیں ہوئی جس دن وہ راہنمائی حاصل ہو گئی اس دن میں اس بات کا فیصلہ کر دوں گا۔اگر خدا بھی کہے گا کہ ان لوگوں کو رہنے دو میں خود ان کی اصلاح کا ذمہ دار ہوں تو میں رہنے دوں گا اور اگر فرمائے گا کہ ایسے لوگوں کو سلسلہ سے الگ کر دو تو پھر ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا۔چندہ میں سستی کرنے والوں کی بابت نصائح اس سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ چندہ لینے کے متعلق صدر انجمن احم