خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 322
خطابات شوری جلد سوم ۳۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ہے شہر بسانا ہے تو لازما لوگوں کو قربانی بھی دینی پڑے گی۔آخر جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے ہیں اپنی لائبریریاں چھوڑی ہیں۔اپنے بچوں اور بیٹیوں کی شادیوں کے سامان چھوڑے، زیورات وغیرہ چھوڑے، اور باہر فقیروں کی طرح اپنی زندگی بسر کرنے لگے ، وہ واپس جا کر اپنے مکانوں کی مرمت کیسے کرا سکیں گے اُن کے لئے یہی صورت ہے کہ قرضہ حسنہ کے طور پر انہیں روپیہ دیا جائے جس سے وہ اپنے مکانوں کی از سر نو تعمیر کرسکیں۔میرے نزد یک فوری طور پر قادیان کے ایک حصہ کو بسانے کے لئے ہمیں دس پندرہ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔تب جا کر وہ رہنے کے قابل ہو سکے گا پس یہ خرچ بھی ہمیں مدنظر رکھنا۔کیونکہ کسی شخص سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسا کام کرے جو اُس کی طاقت سے باہر ہو۔یا تو ہم یہ فیصلہ کر دیں کہ ہم نے قادیان کو نہیں بسانا اور یا ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم نے قادیان کو بسانا ہے۔اور اگر ہم نے قادیان کو بسانا ہے تو ہمیں اُس کے لئے قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جو موجودہ ابتلاء سے بچے رہے وہی قربانی میں سب سے زیادہ سست ہیں زیادہ تر چندہ کی قربانی میں وہی لوگ زیادہ حصہ لے رہے ہیں جن کی جائدادوں کی مشرقی پنجاب اور ہندوستان میں تباہی ہوئی۔مغربی پنجاب والے اس غرور میں بیٹھے ہیں کہ ہم بڑے نیک اور پارسا تھے اس لئے ہم پر عذاب نہیں آیا مجھے ڈر ہے کہ اُن کی یہ ذہنیت اُن کو اس سے بھی بڑے عذاب میں مبتلا نہ کر دے۔حالانکہ خدا نے ایک دھکا دے کر اُن کو سبق دے دیا تھا اور وہ اگر چاہتے تو اپنے اندر تغیر پیدا کر سکتے تھے مگر بجائے تغیر پیدا کرنے کے وہ قربانیوں میں اور بھی سست ہو گئے۔حالانکہ خدا نے اگر اُن کو بچایا تو اس لئے نہیں بچایا کہ وہ زیادہ نیک تھے بلکہ اس لئے بچایا کہ اسلام کے لئے کچھ تو جگہ رہ جائے جس میں آزادانہ طور پر نشو و نما پا سکے۔پس اُن کی کوتا ہی بہت ہی افسوس ناک ہے آج ہی ناظر صاحب بیت المال نے کہا ہے کہ اعتراض کر لینا آسان ہے، لاہور کی جماعت ہی بتائے کہ اُس میں سے کتنے لوگوں نے ۲۵ سے ۵۰ فیصد تک چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ چھ ماہ ہو گئے لاہور کی جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے چندوں کی فہرست لکھ کر میرے سامنے پیش کریں گے مگر ابھی تک انہیں اپنے چندوں کی فہرست ہی پیش کرنے کی توفیق نہیں ملی۔یوں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ